سینٹ پیٹرزبرگ حملہ: ’صرف احکامات پر عمل کر رہا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

روس میں سینٹ پیٹرزبرگ کے میٹرو سٹیشن پر بم حملے سے تعلق کے شبے میں پیر کو گرفتار ہونے والے شخص نے اس حملے سے لا تعلقی ظاہر کی ہے۔

اس بم دھماکے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سینٹ پیٹرز برگ دھماکہ ’ممکنہ طور پر خودکش حملہ‘

کرغستان سے تعلق رکھنے والے ابرار عظیموف کا کہنا ہے کہ وہ صرف احکامات پر عمل کر رہا تھا اور وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ درحقیقت کر کیا رہا ہے۔

یہ بیان ان کے وکیل کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے بتایا تھا کہ ملزم نے اعترافِ جرم کر لیا ہے۔

تین اپریل کو ہونے والے اس حملے سے تعلق کے شبے میں نو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

خود کش حملہ آور اکبرزون جلیلنوف نے دو میٹرو سٹیشنز کے درمیان میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔

اس حملے میں 50 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

اس سے پہلے روسی سیکیورٹی ادارے کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں عظیموف نے بھی حملے کے لیے جلیلنوف کی تربیت کی تھی۔

تاہم منگل کو انھوں نے ماسکو میں عدالت کو بتایا کہ وہ اس واقعے میں ملوث تھے لیکن براہ راست ذمہ دار نہیں تھِا۔

انھوں نے اس بات سے انکار کیا کہ انھوں نے کبھی بھی ان حملوں کی منصوبہ سازی کا اعتراف کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

غطیموف کا کہنا تھا ’میں نہیں جاتا تھا کہ میں دہشت گرد حملے میں شامل ہوں۔ مجھے تو صرف احکامات دیے گئے تھے جن پر میں عمل کر رہا تھا۔‘

انھوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ شادی شدہ اور ایک بچے کے باپ ہیں۔

وہ تین جون تک تحقیقات جاری رہنے تک زیرِ حراست رہیں گے۔

پولیس نے حملہ آور جلیلنوف کے فون ریکارڈز کا جائزہ لینے کے بعد عظیموف کو گرفتار کیا تھا۔ انھوں نے پیر کو دو نئے فون اور سم کارڈ خریدے تھے لیکن جونہی انہوں نے ایک سم کارڈ کو ایکٹیویٹ کیا پولیس کو ان کی موجودگی کے مقام کا علم ہو گیا۔

روسی میڈیا کے مطابق عظیموف سنہ 1990 میں پیدا ہوئے اور سنہ 2008 میں روس منتقل ہوئے جبکہ سنہ 2013 میں انہیں روس کی شہریت دی گئی۔

اسی بارے میں