شام میں حملے کے باعث رکنے والا انخلا بحال

شام تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption باغیوں کے گھیرے میں موجود شمال مغربی دیہاتوں الفوہ اور کفریہ سے کم از کم 3000 لوگوں نے نقل مکانی کی ہے

شام میں حکومتی اختیار کے علاقوں سے نکلنے والے پناہ گزینوں کے قافلے پر ہونے والے بم دھماکوں کی وجہ سے معطل ہونے والا شہریوں کا انخلا بحال ہو گیا ہے۔

اس حملے میں کم از کم 126 افراد ہلاک ہوئے جن میں 68 بچے بھی شامل تھے۔

شام: پناہ گزینوں کی بسوں پر بم حملہ، 45 افراد ہلاک

شام کا بحران: باغی امن مذاکرات میں شرکت کے لیے تیار

باغیوں کے گھیرے میں موجود شمال مغربی دیہاتوں الفوہ اور کفریہ سے کم از کم 3000 لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔

اسی اثنا میں دمشق کے قریب حکومت انتظام والے علاقے زبادانی سے درجنوں بسیں لوگوں کو لے کر نکلی ہیں۔ سنیچر کے حملے کے بعد سکیورٹی سخت کر دیا گیا ہے۔

شہریوں کے انخلا کا کام بدھ کی صبح دوبارہ شروع ہوا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق راشدین کے چیک پوائنٹ پر جہاں شہریوں کو حوالے کیا جا رہا ہے وہاں سنیچر کے حملوں کے بعد بسوں کی جانچ سخت کر دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنیچر کو ہونے والے حملوں میں کم از کم 126 افراد ہلاک ہوئے جن میں 68 بچے بھی شامل تھے

درجنوں باغی جنگجو قافلے کی حفاظت پرمامور ہیں۔

فوعہ سے نقل مکانی کرنے والے ایک 55 سالہ شخص نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مںی خوفزدہ نہیں ہوں کیونکہ سب کچھ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ میں تو اپنے گھر مںی رہنے کو ترجیح دیتا لیکن میں اپنے بچوں اور ان کے مستقبل کے لیے وہاں سے نکلا ہوں۔‘

فریقین نے 'چار علاقوں' کے بارے میں معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق جنگ سے متاثرہ لوگوں کے لیے مدد کی جانی تھی۔ اس معاہدے کے مطابق 30000 افراد باغیوں اور حکومت کے دو دو علاقوں سے نکالے جانے تھے۔

حکومت کا کنٹرول فوح اور کفریہ نامی علاقوں میں ہے جبکہ باغیوں کی زیر انتظام مدایا اور زبادانی کے علاقے ہیں۔ کل ہونے والا بم دھماکہ کیفرایا کے علاقے کے قریب پیش آیا۔

فوح اور کیفرایا میں اکثریت شیعہ مسلمانوں کی ہے اور ان علاقوں کو باغیوں اور القاعدہ سے منسلک سنی مسلم جنگجوؤں نے مارچ 2015 سے گھیرے میں لیے ہوا ہے۔

مدایا اور زبادانی کے علاقے سنی اکثریت کے ہیں اور جون 2015 سے انھیں شام کی فوج نے گھیرا ہوا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں