کیلیفورنیا: ’نسلی حملے‘ میں تین افراد ہلاک

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Fresno County Sheriff

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں پولیس کے مطابق ایک مشتبہ نسلی حملے میں ایک سیاہ فام مسلح شخص نے فائرنگ کر کے تین سفید فام افراد کو ہلاک اور ایک کو زخمی کردیا۔

کیلیفورنیا پولیس کے سربراہ جیری ڈائر کا کہنا ہے کہ کوری علی محمد نامی شخص نے منگل کو 90 سیکنڈز میں گولیوں کے 16 راؤنڈز چلائے۔

امریکہ: کیلیفورنیا کے سکول میں فائرنگ کم سے کم دو افراد ہلاک

فلوریڈا فائرنگ کا مشتبہ حملہ آور گرفتار

جیری ڈائر کے مطابق وہ شخص عربی میں چلایا 'اللہ اکبر' تاہم پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔

کیلیفورنیا پولیس کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ یہ نفرت پر مبنی جرم تھا دہشت گردی نہیں۔

واضح رہے کہ علی محمد گذشتہ ہفتے ایک سکیورٹی گارڈ کو قتل کرنے کے جرم میں پولیس کو مطلوب تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص افریقی امریکن ہے اور اس نے سوشل میڈیا پر اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ وہ سفید فام لوگوں سے نفرت کرتا ہے اور اس نے حکومت مخالف خیالات کا بھی اظہار کیا تھا۔

جیری ڈائر نے کہا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے چاروں افراد سفید فام تھے اور ان میں ایک کو اس مارا گیا جب وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا۔

انھوں نے کہا کہ وہ شخص زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارنا چاہتا تھا۔

یہ واقعہ مقامی وقت کے وقت 10:45 پر کیتولک چیریٹیز کے ہیڈ کواٹر کے نزدیک پیش آیا۔

عینی شایدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک شخص کو بڑی دستی بندوق اٹھائے ہوئے دیکھا جسے اس نے گولیاں چلانے سے پہلے متعدد بار ری لوڈ کیا۔

ان کے مطابق مسلع شخص نے پیسیفک گیس اینڈ الیکٹرک کمپنی کی گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک راہ گیر ہلاک ہو گیا۔

اسی بارے میں