ایران کی اشتعال انگیزی کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کرنا: امریکہ

ریکس ٹلرسن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کی جاری خطرناک اشتعال انگیزی کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کرنا اور خطے میں امریکی مفادات کو نقصان پہچانا ہے۔

وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا کہ بغیر نگرانی کے ایران امکانی طور پر شمالی کوریا کے راستے پر چل سکتا ہے۔

٭ امریکہ، ایران تعلقات میں کشیدگی کا نیا دور؟

٭ ایران میزائل تجربہ: ’امریکہ کئی آپشنز پر غور کر رہا ہے‘

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ لبنان، عراق، شام اور یمن میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کے مطابق' ایران سے متعلق جامع پالیسی کی تحت ہمیں ایران کی جانب سے لاحق خطرات کو نمٹنا ہے اور یہ واضح ہے کہ یہ بہت ہیں۔'

اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ نے تسلیم کیا تھا کہ ایران نے صدر اوباما کے دور میں طے پانے والے جوہری معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کے جائزے کا حکم دیا ہے کہ آیا دو سال قبل ایران پر سے اٹھائی جانی والی پابندیاں امریکہ کے قومی مفاد میں ہیں یا نہیں۔

یہ جائزہ متعدد امریکی اداروں کی جانب سے لیا جائے گا اور اس عمل کی قیادت نیشنل سکیورٹی کونسل کرے گی۔

ٹلرسن نے امریکی کانگریس کو لکھے گئے ایک خط میں ایران کے بطور 'دہشت گردی کا ریاستی پشت پناہ' کردار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اپنی صدارتی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ انتظامیہ کے دور میں ایران کے طے پانے والے جوہری معاہدہ ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ بدترین معاہدہ ہے۔

اس معاہدے کے تحت ایران نے یورینیئم کی افزودگی روک دی تھی جب کہ اس کے بدلے میں مغربی ممالک، بشمول امریکہ نے ایران پر عائد معاشی پابندیاں ہٹا دی تھیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار میں آئے ابھی تین ہفتے ہی گزرے تھے کہ انھوں نے ایران کو ’دنیا کی درجۂ اوّل کی دہشت گرد ریاست‘ قرار دیتے ہوئے اسے ’سرکاری طور پر نوٹس‘ جاری کر دیا تھا۔

اس کے علاوہ جب صدر ٹرمپ نے سات ملکوں کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کیں تو ان میں ایران بھی شامل تھا۔ تاہم بعد میں عدالت نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں