فوری انتخابات سے بریگزٹ میں آسانی ہو گی: برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے

ٹریزا مے تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے کہا ہے کہ برطانیہ میں فوری انتخابات سے بریگزٹ کو کامیاب کرنے اور برطانیہ کو طویل مدت استحکام فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

آٹھ جون کو انتخابات منعقد کروانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران ’بادلِ ناخواستہ‘ اپنی سوچ تبدیل کی ہے۔

٭ برطانیہ میں قبل از وقت انتخابات کروانے کا اعلان

انھوں نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ان پر اعتماد کریں اور یہ کہ نئے مینڈیٹ سے برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے مذاکرات کے دوران ان کے ہاتھ مضبوط ہوں گے اور ان لوگوں کی حوصلہ شکنی ہو گی جو اس عمل کی راہ میں روڑے اٹکانا چاہتے ہیں۔

بعد میں دارالعوام اس فیصلے کی منظوری دے گا۔

توقع ہے کہ دارالعوام کے ارکان کی دو تہائی اکثریت اس فیصلے کے حق میں رائے دے گی۔ ٹریزا مے نے منگل کے روز قبل از وقت انتخابات کروانے کا اعلان کر کے بہت سے حلقوں کو حیران کر دیا تھا۔

برطانیہ میں اگلے عام انتخابات 2020 میں ہونا طے ہیں لیکن قانون کے مطابق اگر دو تہائی ارکانِ پارلیمان چاہیں تو قبل از وقت انتخابات کروائے جا سکتے ہیں۔

سکاٹش نیشنل پارٹی نے عندیہ دیا ہے کہ اس کے ارکان بدھ کو ہونے والی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے، جب کہ لیبر اور لبرل ڈیموکریٹس نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

ٹریزا مے گذشتہ برس جولائی میں وزیرِ اعظم بننے کے بعد سے بار بار یہ کہتی آئی ہیں کہ وہ 2020 سے قبل انتخابات کے حق میں نہیں ہیں، تاہم انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'کوئی سیاست دان انتخابات برائے انتخابات نہیں چاہتا،‘ اور ایسا کرنے میں خطرات بھی موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ برطانوی عوام پر بھروسہ کرتی ہیں اور کہا کہ 'میں چاہتی ہوں کہ وہ بھی مجھ پر بھروسہ کریں۔'

انھوں نے کہا کہ انھیں ہمیشہ سے زیادہ یقین ہے کہ یورپی یونین سے نکلنے کے دو سالہ عمل کے لیے اور اس کے بعد برطانیہ کو نئی سمت میں لے جانے کے لیے مضبوط قیادت کی ضرورت ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں