برطانوی پارلیمان میں قبل از وقت انتخابات کی منظوری

برطانوی دارالعوام تصویر کے کاپی رائٹ HoC

برطانیہ کے دارالعوام نے وزیرِ اعظم ٹریزا مے کی جانب سے نئے انتخابات کے انعقاد کے فیصلے کی بھاری اکثریت سے منظوری دے دی ہے۔

اس فیصلے کے حق میں 522 جب کہ مخالفت میں صرف 13 ووٹ آئے۔ برطانوی قانون کے مطابق قبل از وقت انتخابات کے لیے ایوان کی طرف سے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔

* فوری انتخابات سے بریگزٹ میں آسانی ہو گی: ٹریزا مے

* برطانیہ میں قبل از وقت انتخابات کروانے کا اعلان

وزیرِ اعظم ٹریزا مے کا کہنا تھا کہ نئے انتخابات سے بریگزٹ کے بارے میں مذاکرات اور برطانیہ کے مستقبل کے بارے میں پائی جانے والی بےیقینی دور کرنے میں مدد ملے گی۔

آٹھ جون کو منعقد کیے جانے والے ان انتخابات میں ٹریزا مے اور جیریمی کوربن مدِ مقابل ہوں گے۔

وزیرِ اعظم نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ انتخابات سے پہلے ٹیلی ویژن پر ہونے والے مباحثوں میں حصہ نہیں لیں گی۔

سکاٹس نیشنل پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹس نے ان کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکنِ پارلیمان گریم سٹرنگر نے قبل از وقت انتخابات کی مخالفت کی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی جماعت حکمران ٹوری جماعت کی اکثریت میں اضافہ کرنے کے لیے 'ٹریزا مے کے جال' میں پھنس گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میں چاہتی ہوں کہ لوگ مجھ پر بھروسہ کریں: ٹریزا مے

انھوں نے کہا: 'میں کنزرویٹو پارٹی کی اکثریت میں اضافہ کرنے کے لیے ٹریزا مے کی منافقانہ چال کے حق میں ووٹ نہیں ڈال سکتا تھا۔'

ادھر لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن نے سیاسی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ وہ ایک ایسی حکومت چاہتے ہیں جس میں خدمات انجام دینے والوں کا مناسب خیال رکھا جائے، لوگوں کو ہنگامی طبی امداد کے لیے گھنٹوں تک قطاروں میں انتظار نہ کرنا پڑے اور سکولوں کے لیے وسائل فراہم ہوں۔

انتخابی مہم کے پہلے اقدامات کے طور پر انھوں نے کہا: 'یہی لیبر اور کنزرویٹو پارٹی کے درمیان فرق ہے۔'

وزیرِ اعظم ٹریزا مے گذشتہ برس جولائی میں وزیرِ اعظم بننے کے بعد سے بار بار یہ کہتی آئی ہیں کہ وہ 2020 سے قبل انتخابات کے حق میں نہیں ہیں، تاہم انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'کوئی سیاست دان انتخابات برائے انتخابات نہیں چاہتا،‘ اور ایسا کرنے میں خطرات بھی موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ برطانوی عوام پر بھروسہ کرتی ہیں اور کہا کہ 'میں چاہتی ہوں کہ وہ بھی مجھ پر بھروسہ کریں۔'

انھوں نے کہا کہ انھیں ہمیشہ سے زیادہ یقین ہے کہ یورپی یونین سے نکلنے کے دو سالہ عمل کے لیے اور اس کے بعد برطانیہ کو نئی سمت میں لے جانے کے لیے مضبوط قیادت کی ضرورت ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں