صدر ٹرمپ کی سفری پابندیاں، ایمریٹس پروازیں کم کرنے پر مجبور

تصویر کے کاپی رائٹ copyrightEMIRATES

دبئی کی ایمریٹس ایئر لائن نے مشرق وسطیٰ کے مسافروں کے لیے نئے سکیورٹی اقدامات کی وجہ سے آئندہ ماہ پانچ امریکی شہروں کے لیے پروازوں کی تعداد کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ نے آٹھ مسلمان ملکوں کے دس ایئر پورٹس سے مسافروں پر جبکہ برطانیہ نے چھ مسلمان ملکوں کےمسافروں پر دوران پرواز سمارٹ فون سے زیادہ بڑے برقی آلات اپنے ساتھ رکھنے پر پابندی عائد کی ہے۔

جہازوں میں الیکٹرانکس لانے پر پابندی کا اطلاق شروع

ٹرمپ کا پابندی کو بحال کرنے کا عزم، جج پر کڑی تنقید

ایمریٹس ایئر لائن کا کہنا ہے کہ امریکہ جانے والے مسافروں کی تعداد میں کمی کی وجہ سے پروازیں کم کی جا رہی ہیں۔

ایمریٹس ایئر لائن کی ایک خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ' امریکی حکومت کی جانب سے ویزے کے اجرا، سکیورٹی میں اضافے اور کیبن میں الیکٹرانکس آلات لانے پر پابندی جیسے حالیہ اقدامات کی وجہ سے صارفین کی امریکی سفر میں دلچسپی اور طلب میں کمی آئی ہے۔'

ترجمان کے مطابق گذشتہ تین ماہ کے دوران تمام امریکی روٹس پر جانے والی پروازوں پر بکنگ میں قابل ذکر کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

ایمریٹس کے صدر ٹم کلارک نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کے اعلانات کی وجہ سے امریکہ جانے والے مسافروں کی تعداد میں ایک تہائی کمی آئی ہے۔

ایمریٹس نے امریکہ جانے والے مسافروں پر دوران پرواز لیپ ٹاپ کے استعمال پر پابندی سے نمٹنے کے لیے نئی سروسز کا آغاز کیا ہے جس میں پریمیئر سروس کے مسافروں کے لیے ٹیبلٹس کی سہولت اور جہاز کے گیٹ پر الیکٹرانکس آلات کے چیک ان کی سہولت دینا شامل ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں ہی ایمریٹس کی حریف ایئر لائن اتحاد نے کہا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں امریکہ جانے والے مسافروں کی تعداد میں قابل ذکر کمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ '

اتحاد ایئر امریکہ کے چھ شہروں کے لیے پروازیں چلاتی ہے جبکہ ایمریٹس نے 2004 میں امریکہ کے لیے پروازوں کا آغاز کیا تھا اور اس وقت 12 امریکی شہروں میں اس کی فلائٹس جاتی ہیں۔

ایمریٹس ایئر لائن کو امریکہ میں مقامی ایئر لائنز سے تنازع کا سامنا ہے کیونکہ امریکی ایئر لائنز کے مطابق ایمریٹس کو حکومت کی جانب سے سبسڈی ملتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں