پیرس حملہ آور کی شناخت کر لی گئی

پیرس تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پولیس نے پیرس کے معروف سیاحتی مقام شانزے لیزے پر ہونے والی دہشت گردی کے واقعہ میں ملوث حملہ آور کو شناخت کر لیا ہے لیکن اس کا نام افشا نہیں کیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق 39 سالہ حملہ آور پیرس کے مضافات میں مقیم تھا اور پولیس کو شک تھا کہ وہ اسلام پسند جہادیوں کے راستے پر چل سکتا ہے۔

واضح رہے کہ جمعرات کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں حکام کے مطابق ایک مسلح حملہ آور کی فائرنگ سے پولیس کا ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے جبکہ دولتِ اسلامیہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

٭ پیرس میں’دہشت گرد‘ حملہ: تصاویر

٭توجہ کا مرکز سکیورٹی نہ کہ سوشل سکیورٹی

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند کے مطابق یہ حملہ'دہشت گردی' کا واقعہ تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کو قوم کی مکمل حمایت حاصل ہے اور حملے میں ہلاک ہونے والے پولیس افسر کو خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔

اس سے پہلے فرانس کے وزارت داخلہ کے ترجمان پیئر ہینری برانڈٹ نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے ایک گاڑی شانزے لیزے کے نزدیک پولیس کی بس کے ساتھ آ کر رکی اور اس میں سے ایک شخص نے خود کار ہتھیار سے فائرنگ شروع کر دی۔

حملہ آور نے پولیس اہلکار کو قتل کر نے کے بعد وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن جاتے جاتے بھی گولیاں چلائیں جس سے دو مزید پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ سیکورٹی فورسز کی جوابی کاروائی سے حملہ آور بھی ہلاک ہو گیا۔

حملے کے بعد شانزے لیزے کو خالی کرا دیا گیا تھا۔

پیرس کے سرکاری وکیل فرانسوا مولنس نے کہا کہ حملہ آور کی شناخت اور تصدیق کر لی گئی ہے۔ 'میں اس کی شناخت ظاہر نہیں کروں گا کیونکہ ابھی تفتیش جاری ہے۔' انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں مزید تفصیلات جمعے کو فراہم کی جائیں گی۔

دوسری جانب دولت اسلامیہ نے حملہ آور کا نام ابو یوسف بلجیکی بتایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پیرس میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق چونکہ شہر کا تفریحی مقام شانزے لیزے دنیا بھر کے سیاحوں میں مقبول ہے اور اسی وجہ سے کافی عرصے سے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ شدت پسندی کے واقعے میں اسے بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ فروری میں فرانس کی وزارتِ داخلہ نے دعویٰ کیا تھا کہ چار مشکوک افراد کی گرفتاری کے بعد ایک 'ممکنہ دہشت گرد حملہ' ناکام بنا دیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں