دنیا بھر میں ’سائنس میں سیاسی مداخلت‘ کے خلاف مظاہرے

People gather in front of the Brandenburg Gate in support of scientific research during the March for Science in Berlin, Germany, 22 April 2017 تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دنیا بھر میں لوگوں نے اپنی نوعیت کے پہلے ’سائنس کے حق میں مارچ‘ میں حصہ لیا

دنیا بھر کے مختلف شہروں میں ہزاروں سائنسدان اور عام لوگ ان مظاہروں میں حصہ لے رہے ہیں جن کا مقصد ان کے بقول ’حقائق کے خلاف جنگ‘ اور سائنس میں سیاسی مداخلت پر احتجاج کرنا ہے۔

اپنی نوعیت کے ان پہلے مظاہروں کو ارتھ ڈے یا ’یوم الارض‘ کے موقعے پر ترتیب دیا گیا ہے اور اس کا مقصد ماحول کو بچانے کے بارے میں آگہی پھیلانا ہے۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ اس کا ایک اور مقصد سائنس کا جشن منانا اور سائنسی برادری کا تحفظ کرنا ہے۔

مرکزی پروگرام امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہو گا۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس مارچ کا نشانہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نہیں ہیں، تاہم یہ کہا کہ ان کی انتظامیہ نے اس مہم کو تحریک دی ہے۔

اس مارچ میں ماحولیاتی تبدیلی، آلودگی اور طب جیسے موضوعات پر بات کی جائے گی۔ اس مارچ کا خیال حال ہی میں ہونے والی ’ویمن مارچ‘ سے آیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مظاہرین نے بقول ان کے دنیا بھر میں حقائق کے خلاف جاری جنگ کے بارے میں اپنے خدشات اور تشویش کا اظہار کیا۔ ’سائنسی بجٹ میں کٹوتی پر مجھے اضافی غصہ آتا ہے۔‘
تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جرمنی کے شہر برلن میں لوگوں نے سائنس کے حق میں جلوس نکالا۔ اس پلے کارڈ پر لکھا ہے: سائنس کی خوبی یہ ہے کہ چاہے آپ مانیں یا نہ مانیں، یہ درست ہے۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں کہہ چکے ہیں کہ یہ ڈھکوسلہ ہے۔ اس سے سائنسی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ عوام سائنس کے پیش کردہ شواہد پر شک کا اظہار کرنے لگیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption آسٹریلیا کے شہر ویانا میں بھی لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ اس کارڈ پر لکھا ہے: ’سائنس نے ڈائنو ساروں کو مزید دلچسپ بنا دیا۔‘
تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ’آئن سٹائن بھی تارکِ وطن تھے،‘ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں نکالے جانے والے جلوس کا ایک منظر۔

لندن میں سائنس دانوں اور سائنس سے شغف رکھنے والے لوگوں نے پارلیمنٹ سکوئر میں جلوس نکالا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ بہت سے سیاستدان تحقیق کو رد کر رہے ہیں جو تشویش کی بات ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption لندن کے سائنس میوزیم کے باہر لوگوں کا مظاہرہ۔
تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption لندن کے سائنس میوزیم کے باہر لوگ بڑی تعداد میں جمع ہو گئے۔

اس مارچ کا ایک اور مقصد سائنس اور تحقیق کو عام لوگوں تک پہنچانا ہے۔

منتظمین کا خیال ہے کہ سائنس دانوں کے لیے عوام تک اپنی بات پہنچانا مشکل ہو رہا ہے اور وہ سائنسدانوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ بھی سیاست کی طرف آئیں تاکہ ان کی آواز بہتر طریقے سے سنی جا سکے۔

اسی بارے میں