دو اسرائیلی فوجی عربوں پر حملوں کے الزام میں گرفتار

اسرائیلی پولیس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فائل فوٹو

اسرائیل میں دو اسرائیلی فوجیوں سمیت چھ افراد کو عربوں کے خلاف نسلی تعصب پر مبنی حملوں کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔

حکام نے اتوار کے روز کہا کہ ان افراد نے عربوں پر چُھروں، ڈنڈوں اور سریوں کی مدد سے کم از کم پانچ حملے کیے اور ان پر 'دہشت گردی' کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ ان لوگوں نے عربوں کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ جنوبی شہر بیرشیبا میں ہونے والے ان حملوں سے کتنے لوگ زخمی ہوئے اور کس قدر نقصان ہوا ہے۔

بظاہر یہ لوگ 'قومی اور نسل پرستانہ' خیالات سے متاثر ہوئے تھے اور ان میں سے بعض حملوں کا مقصد یہودی عورتوں کو عرب مردوں سے تعلقات قائم کرنے سے روکنا تھا۔

پولیس کے مطابق یہ لوگ کٹر دائیں بازو کی ایک تنظیم 'لیہاوا' کی ویڈیوز سے متاثر ہوئے تھے۔ یہ تنظیم یہودیوں کی دوسرے اقوام سے شادیوں کی مخالفت کرتی ہے۔

اگست 2014 میں لیہاوا کے کارکنوں نے ایک جلوس نکالا تھا جس میں عربوں کے خلاف نسل پرستانہ نعرے لگائے گئے تھے جن میں یروشلم میں ایک یہودی عورت اور عرب مرد کی شادی کے موقعے پر 'عربوں کے لیے موت' کا نعرہ بھی شامل تھا۔

پولیس نے اس تنظیم کے رہنما بینزی گوپسٹائن سے 2015 میں پوچھ گچھ کی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ اسرائیل میں چرچوں کو آگ لگانا جائز ہے کیوں کہ قدیم اسرائیل میں یہودیوں کو حکم تھا کہ وہ بت پرستی کے مراکز کو تباہ کر دیں۔

اسرائیل کی 80 لاکھ آبادی میں 14 لاکھ عرب ہیں جو کل آبادی کا 17.5 فیصد حصہ بنتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں