فرانسیسی صدارتی انتخابات میں کانٹے کا مقابلہ

فرانس انتخابات تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فرانس کے اہم صدارتی انتخابات میں ووٹنگ کا آغاز ہو گیا ہے جبکہ تین روز قبل پیرس پولیس پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ٹرن آؤٹ 80 فیصد کے لگ بھگ رہا تھا۔ 2012 کے انتخابات میں اس سے تھوڑا سا زیادہ ٹرن آؤٹ دیکھنے کو ملا تھا۔

عام طور پر فرینچ میڈیا انتخابات کے بعد رات آٹھ بجے کے قریب نتائج کی پیش گوئیاں شروع کر دیتا ہے لیکن اس بار لگتا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکے گا۔

ایک تو دیہی حلقوں میں ووٹنگ معمول سے ایک گھنٹہ تاخیر سے بند ہو گی، دوسرے یہ کہ مقابلہ اس قدر سخت ہے کہ نیوز چینل اپنی سکرینوں پر دو کی بجائے تین امیدواروں کے چہرے دکھا رہے ہیں۔

ووٹنگ فرانس کے علاوہ دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی ہو رہی ہے جہاں فرانسیسی شہری حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔

لندن اور برلن میں ووٹروں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں اور لوگ اپنی تصویریں شیئر کر رہے ہیں۔

اتوار کو ہونے والے انتخابات کے لیے ملک بھر میں تقریباً 50 ہزار پولیس اہلکار اور سات ہزار فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ فرانس میں ہونے والے ان صدارتی انتخابات میں کل 11 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جن کا تعلق مختلف نظریات کی حامل جماعتوں سے ہے۔

اگر کوئی بھی امیدوار 50 فیصد سے زیادہ ووٹ نہ لے سکا تو یہ انتخاب دوسرے مرحلے میں چلا جائے گا جس کے دوران پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا۔

فرانس میں مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے پولنگ کا آغاز ہوا۔ ووٹنگ فرانس کے وقت کے مطابق شام آٹھ بجے تک جاری رہے گی۔

اِن انتخابات کو یورپ کے مستقبل کے لیے بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے جس میں اس وقت چار امیدواروں صدرات کے عہدے کے انتہائی قریب تصور کیا جا رہا ہے۔

ان چار امیدواروں میں کنزرویٹیو فرانسوا فیوں، انتہائی دائیں بازو کی ماری لا پین، امینیول میکخواں اور انتہائی دائیں بازو کے ژاں لوک میلوں شوں شامل ہیں۔

ان تمام امیدواروں نے ملک میں انتخابی مہم کے دوران کئی مباحثے کیے اور سب کے سب نے یورپ، امیگریشن، معیشت اور فرانسیسی شناخت کے حوالے سے مختلف نظریات اور تصورات پیش کیے۔

واضح رہے کہ جمعرات کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں حکام کے مطابق ایک مسلح حملہ آور کی فائرنگ سے پولیس کا ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس حملے کے بعد ملک میں صدراتی انتخابات کے لیے سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔

انتخابی مہم کے دوران بھی نیشنل سکیورٹی گفتگو کا مرکزی نکتہ رہی ہے، تاہم امیدواروں پر حالیہ حملوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

صف اول کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے لیکن ایسا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان میں سے کسی بھی امیدوار کو 50 فیصد ووٹ ملنا مشکل ہیں۔

سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدواروں کے درمیان دوسرا مقابلہ سات مئی کا ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں