فرانس الیکشن: امینیول اور ماری لا پین صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں

فرانس تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امینیول میکروں فرانس میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا مقابلہ انتہائی دائیں بازو کی ماری لا پین سے ہو گا۔

معتدل نظریات کے حامل امینیول میکروں جو سابق بینکر ہیں، سیاست میں فی الحال نئے سمجھے جاتے ہیں اور انھوں نے ان انتخاب میں کسی بھی بڑی جماعت کی حمایت کے بغیر حصہ لیا۔

اتوار کو ہونے والے انتخاب میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے بعد اب امینیول میکروں سات مئی کو ہونے والا دوسرا مرحلہ جیتنے کے لیے صفِ اول کے امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔

توجہ کا مرکز سکیورٹی نہ کہ سوشل سکیورٹی

فرانس کا صدارتی انتخاب، کون کیا؟

فرانس الیکشن: ’پہلے راؤنڈ میں امینیول اور لا پین کی جیت‘

یہ گذشتہ چھ دہائیوں میں پہلا موقع ہے کہ فرانس کی مرکزی دائیں بازو یا بائیں بازو کی حماعتوں میں سے کسی کا امیدوار بھی دوسرے مرحلے تک نہیں پہنچ سکا۔

خیال رہے کہ فرانسیسی ٹی وی کے مطابق امینیول میکروں نے 23.7 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ماری لا پین کے حصے میں 21.7 فیصد ووٹ آئے ہیں۔

دوسری جانب کنزرویٹیو فرانسوا فیوں اور انتہائی دائیں بازو کے ژاں لوک میلوں شوں نے سخت مقابلہ کیا۔

اب اس بات کا قوی امکان ہے کہ بہت سے سیاستدان امینیول میکروں کے ساتھ دوسرے مرحلے میں متحدہ ہو جائیں تاکہ ماری لا پین کی جماعت نیشنل فرنٹ کو اقتدار میں آنے سے روکا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اگر 39 سالہ امینیول میکروں یہ انتخابات جیت جاتے ہیں تو وہ فرانس کے سب سے کم عمر صدر بن جائیں گے۔

پہلے مرحلے میں اپنی جیت کے بعد خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ میں آئندہ دو ہفتوں بعد آپ کا صدر ہوں گا۔ میں فرانس کے تمام لوگوں کا صدر بننا چاہتا ہوں۔‘

واضح رہے کہ اگر کوئی بھی امیدوار 50 فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں حاصل کر سکا تو انتخاب دوسرے مرحلے میں چلے جاتے ہیں جس میں پہلے راؤنڈ میں پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے۔

ابتدائی اندازے کے مطابق ان انتخاب میں ووٹوں کی شرح 2012 کے انتخاب جتنی ہی رہی اور ٹرن آؤٹ تقریباً 79 فیصد رہا۔

اِس انتخاب کو یورپ کے مستقبل کے لیے بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے جس میں چار امیدواروں کو صدارت کے عہدے کے انتہائی قریب تصور کیا جا رہا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں