فرانس الیکشن: لا پین نے نیشنل فرنٹ کی صدارت چھوڑ دی

لا پین تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فرانس میں انتہائی دائیں بازو نظریات کی حامل صدارتی امیدوار ماری لا پین نے اپنی سیاسی جماعت نیشنل فرنٹ کی قیادت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔

لا پین کی جانب سے یہ اعلان فرانسیسی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پہنچنے کے بعد کیا گیا ہے جہاں ان کا سامنا امینیول میکروں سے ہوگا۔

میکروں فرانس کے سب سے کم عمر صدر بننے کے لیے پرامید

فرانس الیکشن: ’پہلے راؤنڈ میں امینیول اور لا پین کی جیت‘

فرانسیسی صدارتی انتخابات میں کانٹے کا مقابلہ

فرانس کا صدارتی انتخاب، کون کیا؟

پہلے مرحلے میں امینیول میکروں نے 24 فیصد ووٹ جبکہ ماری لا پین 21.3 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق امینیول میکروں دوسرے مرحلے میں پسندیدہ ترین امیدوار ہیں جبکہ لا پین کا کہنا ہے کہ 'ہم جیت سکتے ہیں، ہم جیتیں گے۔'

انھوں نے اپنا پارٹی عہدہ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے جس فرانسیسی اصطلاح کا استعمال کیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ عارضی ہے۔

انھوں نے ٹی وی چینل فرانس ٹو کو بتایا کہ فرانس ایک 'فیصلہ کن لمحے' کی جانب بڑھ رہا ہے۔

ماری لا پین کا کہنا تھا کہ 'آج شام سے میں نیشنل فرنٹ کی صدر نہیں ہوں۔ میں فرانس کی صدارتی امیدوار ہوں۔'

پیرس میں بی بی سی کے نامہ نگار ہو شوفیلڈ کا کہنا ہے لا پین کی جانب سے یہ ایک علامتی عمل ہے جس سے وہ اپنی توقعات صرف اپنی سیاسی جماعت نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے ظاہر کرنا چاہتی ہیں۔

ان کے مطابق وہ پہلے مرحلے شکست پانے والے امیدواروں کے ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، خاص طور رپبلکنز پارٹی کے فرنسوا فیوں کے حامیوں کی۔

واضح رہے کہ فرانسیسی انتخاب کے پہلے مرحلے اگر کوئی بھی امیدوار 50 فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں حاصل کر سکا تو انتخاب دوسرے مرحلے میں چلے جاتے ہیں جس میں پہلے مرحلے میں پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں