کیمیائی حملے کے جواب میں شام پر امریکہ کی وسیع تر پابندیاں

کیمیائی حملے کے شکار شامی باشندے تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس حملے سے متاثرہ افراد کو سرحد پار ترکی کے ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے

امریکہ نے رواں ماہ کے اوائل میں مشتبہ کیمیائی حملے کے جواب میں شامی حکومت کے اہلکاروں پر 'وسیع' پابندی عائد کر دی ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے شام کے سائنٹفک سٹڈیز اینڈ ریسرچ سینٹر (ایس ایس آر سی) کے 271 ملازمین کی تمام املاک کو منجمد کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

امریکہ کا خیال ہے کہ باغیوں کے قبضے والے قصبے خان شیخون میں جو 80 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں وہ اعصاب پر اثر انداز ہونے والے عوامل سے ہوئی ہیں۔ جبکہ شام نے اسے جھوٹ قرار دیا ہے۔

٭ شام پر عالمی پابندیاں، روس اور چین کا ویٹو

٭ شام میں کیمیائی حملہ انسانیت کی توہین ہے: ٹرمپ

شام کے صدر بشارالاسد نے چار اپریل کو خان شيخون میں رونما ہونے والے واقعات کو مغرب کی کارستانی بتائی ہے تاکہ امریکہ کو شامی حکومت کے ایئر بیس پر میزائل حملے کا بہانہ مل سکے۔

خیال رہے کہ اس واقعے کے چند روز بعد حکومتی ایئربیس شعیرات پر امریکہ نے حملہ کیا تھا۔

امریکی وزارت خزانہ نے پیر کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایس ایس آر سی کے 271 ملازمین اس غیر روایتی ہتھیار کو بنانے، تیار کرنے اور فراہم کرانے کے لیے ذمہ دار تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دھماکے میں تباہ ہونے والی پناہ گزینوں کی ایک بس

ان پابندیوں کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی امریکی شہری ان سے کسی قسم کا لین دین نہیں کر سکیں گے۔

وزیر خزانہ سٹیون منوشین نے کہا کہ 'اس وسیع پابندی کا ہدف شام کے آمر بشار الاسد کا سائنسی سپورٹ سینٹر ہے جس کے خوفناک کیمیائی حملے میں بے قصور شہریوں، خواتین اور بچوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

'امریکہ اس پابندی کے ذریعے ایک سخت پیغام دینا چاہتا ہے کہ ہم انسانی حقوق کی اس صریح خلاف ورزی کے لیے پورے اسد حکومت کو ذمہ دار قرار دیں گے تاکہ اس قسم کے بہیمانہ کیمیائی اسلحے کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔'

شاہدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے خان شیخون پر جنگی طیاروں کے حملے دیکھے ہیں لیکن صدر اسد کے اہم حلیف روس کا کہنا ہے اس میں باغیوں کے کیمیائی اسلحوں کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

فوٹیج میں اس کے شکار افراد کے چہروں پر تشنج اور جھاگ دیکھا جا سکتا ہے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ اس حملے سے متاثرہ افراد کو سرحد پار ترکی کے ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں