امریکی صدر ٹرمپ کے وعدے کتنے وفا ہوئے؟

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وعدے کے ساتھ اقتدار سنبھالا تھا کہ وہ امریکی سیاست کی شکل تبدیل کر دیں گے اور عوام کو دوبارہ طاقت کا سرچشمہ بنائیں گے۔

سوال یہ ہے کہ وہ اب تک اس سلسلے میں کیا کر پائے ہیں؟ یہاں بی بی سی نے صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کے تحت ہونے والے اقدامات کا جائزہ لیا اور ان کا سابق ادوار سے موازنہ بھی کیا ہے۔

صدارتی حکم

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایگزیکٹو اختیارت کے استعمال میں تیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بعض انتخابی وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش کی جن میں ایک بین الاقوامی تجارتی معاہدے ’ٹی پی پی‘ سے پیچھے ہٹنا اور تجارتی ضابطوں میں کمی کرنا شامل ہے۔

انھوں نے سابق صدر براک اوباما کی رفتار سے ہی ایگزیکٹو آرڈرز کا استعمال کیا ہے لیکن انھوں نے 21 اپریل تک اپنے پیش رو صدر سے زیادہ احکامات پر دستخط کیے ہیں۔

پسندیدگی کی شرح

مقبول ووٹوں کے لحاظ سے شکست کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے سنہ 2016 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور انتخابی مہم کے دوران ان کو منظور یا تسلیم کی جانے کی تعداد نسبتاً کم رہی۔

وہ کسی بھی نئے صدر کے مقابلے سب سے کم ’اپروول ریٹنگ‘ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں داخل ہوئے اور ان کے قریبی پیش روؤں کے مقابلے میں ان کی پسندیدگی کی شرح بطور خاص کم رہی۔

امیگریشن

صدر ٹرمپ کے اہم صدارتی وعدوں میں سے ایک غیرقانونی تارکین وطن پر قدغن لگانا تھا اور اس ضمن میں کچھ ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

امریکی حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق میکسیکو سے سرحد پار کر کے امریکہ آنے والے لوگوں کی تعداد میں جنوری کے بعد سے خاطر خواہ کمی آئي ہے جسے وہ غیر قانونی تارکین وطن کی آمد پر پابندی کی علامت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

روزگار

جب براک اوباما سنہ 2009 میں صدر بنے تھے اس وقت امریکہ سنہ 1930 کی دہائی کے بعد آنے والی شدید ترین کسادبازاری کی زد میں تھا اور پہلے مہینے میں آٹھ لاکھ ملازمتیں چلی گئی تھی۔

پھر اسی سال ملازمتوں میں چند گراوٹوں کے بعد امریکہ معیشت میں ملازمتوں کے پیدا ہونے کے طویل ترین دور گزرا۔

ٹرمپ کی صدارت کے تین ماہ میں ملازمتوں کے میدان میں ٹھہراؤ ہے لیکن مارچ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ترقی کی رفتار امیدوں کے مطابق نہیں۔

بازارِ حصص

صدر ٹرمپ نے بازار حصص کو 'تجارتی دنیا میں امید کی زبردست لہر' کی علامت کے طور پر بیان کیا تھا۔

ٹرمپ کی صدارت کے پہلے چند ہفتوں کے دوران ڈاؤ، ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گيا تھا لیکن ریپبلیکن ہیلتھ کیئر پلان اور ٹیکس میں مجوزہ اصلاحات میں بظاہر پیش رفت کی کمی کے بعد مارچ کے مہینے میں تینوں انڈیکسز میں سست روی نظر آئی ہے۔

اپنے پیش روؤں کے مقابلے میں مسٹر ٹرمپ کی صدارت میں 21 اپریل تک ایس اینڈ پی500 میں ترقی کی رفتار قائم تھی۔

ہیلتھ کيئر

صدر ٹرمپ کے انتخابی وعدوں میں سے ایک صدر اوباما کے افورڈیبل کیئر ایکٹ (اے سی اے) کو 'منسوخ اور تبدیل کرنا' شامل تھا۔

ریپبلکنز اوباما کیئر نام سے معروف اے سی اے کو ختم کرنے پر آمادہ تھے۔ اس بات سے قطع نظر کہ اس کے تحت دو کروڑ ایسے افراد کو مدد مل رہی تھی جن کا پہلے سے ہیلتھ بیمہ یا انشورنس نہیں تھا۔

جب ان کے منصوبے پر سے پردہ اٹھا تو ایک غیر جانبدار وفاقی ایجنسی نے جسے بجٹ کے فیصلوں کے تجزیے کا کام سونپا گیا تھا، کہا کہ اس کے نتیجے میں سنہ 2026 تک دو کروڑ 40 لاکھ مزید امریکی انشورنس کے بغیر ہوجائيں گے۔

جب کانگریس میں ریپبلکنز کو خاطر خواہ حمایت نہیں مل سکی تو اس منصوبے کو بالاخر ترک کر دیا گیا لیکن مسٹر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ دوسرے قانون پر کام کر رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات