آئس لینڈ: کسانوں کو ’ایک سینگ والا جانور‘ مل گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Erla Porey Olafsdottir

مقبول ثقافتوں میں کچھ عرصے سے ہر 'یک سنگی' شے کے بارے میں جنون پایا جاتا ہے، خواہ بات رنگا رنگ اور انوکھے مشروبات کی ہو یا ٹیکنالوجی کے سرمایہ کاروں کے پیشِ نظر آئندہ مستقبل کی کسی بڑی چیز کی۔

لیکن آئس لینڈ کے ایک کاشتکار خاندان کا خیال ہے کہ انھیں اپنی بھیڑوں میں حقیقتاً 'یک سنگا' یا ایک سینگ والا جانور مل گیا ہے۔

ایرلا پورے اولفسڈوٹر کی بھیڑوں کے عموماً دو سینگ ہوتے ہیں۔ لیکن لگتا ہے ان میں سے ایک بھیڑ کا ایک ہی سینگ ہے، جس کے آخر میں چھوٹی سی ایک شاخ ہے۔

سکول فیس کے پیسے نہیں تو بکری دے دیں

خاندان کے مطابق یہ سینگ لاطینی لفظ 'یونی' اور 'کارنیو' کی شکل ہے جس کا مطلب ہے 'ایک سینگ'۔ تاہم مزید اطمینان کے لیے ایرلا کے خاندان نے آئس لینڈ کی زبان میں اس بھیڑ کا نام 'اینہر نِنگُر' رکھا ہے جس کا مطلب 'یونی کورن' ہے یعنی ایک سینگ والا'۔

تصویر کے کاپی رائٹ Erla Porey Olafsdottir

آئس لینڈ مانیٹر ویب سائٹ کے مطابق اینہر ننگر اس وقت پہاڑ پر رہ گیا تھا جب سردیوں میں دیگر بھیڑوں کو اکٹھا کیا گیا۔ کرسمس کے موقع پر جب کچھ کاشتکاروں کی نگاہ اس پر پڑی تو انھیں سمجھ نہ آیا کہ یہ کیا ہے۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ کوئی بکری ہے۔

ایرلا نے بتایا ہے کہ سینگ بھیڑ کے منہ کے سامنے، خصوصا آنکھوں تک پھیلا ہوا ہے جس سے ایسے دکھائی دیتا ہے کہ یہ بھیڑ حیرت زدہ ہے۔ یہ بھیڑ ان لوگوں کی طرح ہے جنھوں نے اپنے چہرے کو خوبصورت بنوایا ہو۔

دیکھنے کے اس خاص انداز کی وجہ سے شاید اسے بھیڑوں کے باڑے میں نہ جانا پڑے۔ اس کے مالکان کا خیال تھا کہ یہ جانور پالنے کے قابل نہیں ہے کیونکہ اس کے جسم پر گوشت بہت ہی کم تھا۔ لہذا انھوں نے اسے آئندہ موسمِ بہار تک زندہ رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

لیکن آئس لینڈ مانیٹر کے مطابق اس بھیڑ کو اپنے مخصوص سینگ کی وجہ سے اب شاید ریکجویک کے چڑیا گڑھ میں رکھ دیا جائے۔

اسی بارے میں