’یوکِپ‘ کی پریشانیاں انتخابی منشور سے عیاں

یوکِپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گذشتہ جون میں ہونے والے ریفرینڈم میں برطانوی عوام نے بریگزٹ کے جق میں ووٹ دیا تو یوکِپ اپنے وجود کے بنیادی جواز سے ہاتھ دھو بیٹھی

ابھی چند سال پہلے تک یو کے انڈیپنڈنٹ پارٹی یا 'یوکِپ' کسی بھی گنتی میں نہیں تھی اور اس کا کُل کردار ایک ایسے پریشر گروپ کا سا تھا جو خود تو کچھ حاصل نہیں کر پاتا لیکن سیاسی جماعتوں کے لیے دردِ سر بنا رہتا ہے۔

یہاں برطانیہ میں یوکِپ کے نشانے پر کنزویٹو پارٹی رہی ہے جو یو کِپ سے نظریاتی قربت کی وجہ سے پارٹی میں دائیں طرف سے اس کی حدت کو محسوس کرتی رہی ہے۔

برطانوی پارلیمان میں قبل از وقت انتخابات کی منظوری

فوری انتخابات سے بریگزٹ میں آسانی ہو گی: ٹریزا مے

برطانوی پارلیمان میں یورپی یونین چھوڑنے کا بل منظور

بریگزٹ ریفرینڈم سمیت ٹوری پارٹی کے بہت سے پالیسی فیصلے اس خوف سے کیے گئے کہ کہیں یوکِپ اس سے سیاسی فائدہ نہ حاصل کر لے اور پارٹی کے دائیں بازو کے کارکن اور ارکانِ اسمبلی اسے چھوڑ کر یوکِپ میں نہ چلے جائیں۔

انتخابی میدان میں یوکِپ کی کامیابیاں زیادہ تر یورپی پارلیمنٹ تک محدود رہی ہیں جہاں سیاسی جماعتوں کی حاصل کردہ نشستوں کا فیصلہ متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اس وقت یورپی پارلیمنٹ میں یوکِپ کے ارکان کا تعداد اتنی ہی ہے جتنی دو بڑی پارٹیوں ٹوری اور لیبر کی ہے اور اس کے بھی 20 ارکان یورپی پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔

اگرچہ پارٹی کو وجود میں آئے 24 سال ہو چکے ہیں لیکن برطانوی دارالعوام میں اس کو پہلی بار نمائندگی گذشتہ پارلیمنٹ میں اس وقت حاصل ہوئی جب کنزرویٹو پارٹی کے دو ارکان اپنے پارٹی چھوڑ کر یوکِپ میں شامل ہوئے۔

ان دو میں سے صرف ڈگلس کازویل ہی 2015 کے انتخابات میں اپنی نشست برقرار رکھ سکے اور وہ بھی چند ماہ پہلے پارٹی قیادت سے اختلافات کی بنیاد پر یوکِپ کو چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پارٹی کے موجودہ صدر پال نٹل بھی نائجل فراج کی طرح یورپی پارلیمنٹ کے رکن ہیں

جہاں تک پارٹی کی قیادت کا سوال ہے، وہاں پر بھی یوکِپ کی پوزیشن کچھ زیادہ قابِل رشک نہیں رہی ہے۔ بیرونی دنیا میں یوکِپ کا حالیہ امیج اس کے سابق صدر نائجل فراج سے جڑا ہوا ہے جو تین مختلف مواقع پر پارٹی کی قیادت کر چکے ہیں۔ آخری بار جب انھوں نے یوکِپ کے قائم مقام صدر کی حیثیت سے پارٹی عہدہ چھوڑا تو ایسا دکھائی دیا جیسے پارٹی ایک بحران کا شکار ہو چکی ہے۔

ان کے قیادت سے الگ ہونے کے بعد پہلے تو ڈیان جیمز پارٹی کی صدر بنیں لیکن وہ بھی چند ماہ بعد استعفیٰ دے کر چلی گئیں۔ پارٹی کے موجودہ صدر پال نٹل بھی نائجل فراج کی طرح یورپی پارلیمنٹ کے رکن ہیں لیکن ان کی قیادت سنبھالنے کے بعد بھی برطانوی انتخابی سیاست میں پارٹی کے کردار میں کوئی ڈرامائی تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔

پارٹی کو اصل مشکلات قیادت کی بجائے پارٹی پالیسی کے میدان میں درپیش ہیں۔ جیسا کہ اس کے نام سے اشارہ ملتا ہے 'یوکِپ' ابھی تک نیشنلسٹ سیاست کرتی آ رہی ہے اور برطانیہ کو یورپی یونین سے باہر لانے کے یک نکاتی ایجنڈے پر سیاست کرتی رہی ہے۔

جب گذشتہ جون میں ہونے والے ریفرینڈم میں برطانوی عوام نے بریگزٹ کے جق میں ووٹ دیا تو یوکِپ اپنے وجود کے بنیادی جواز سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ جیسے ہی بریگزٹ کے حق میں فیصلہ ہوا تو نئی وزیر اعظم ٹریزا مے نے سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اس پر اپنی پارٹی کی چھاپ لگا دی۔

پارٹی کی یہ پریشانی اس کے انتخابی منشور سے جھلک رہی ہے جو اس نے 2017 کے لیے تیار کیا ہے۔ اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق انٹیگریشن پروگرام اس کے منشور میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جس میں عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی، برطانیہ میں شرعی قوانین کا خاتمہ اور مزید اسلامی سکول کھولنے پر پابندی جیسے انتخابی وعدے شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 'یوکِپ' ابھی تک نیشنلسٹ سیاست کرتی آ رہی ہے اور برطانیہ کو یورپی یونین سے باہر لانے کے یک نکاتی ایجنڈے پر سیاست کرتی رہی ہے

اگرچہ عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی سے متعلق وضاحت نہیں کی گئی لیکن اس کا بڑا نشانہ مسلمان عورتوں میں رائج نقاب ہی ہے جس پر فرانس میں پابندی لگ چکی ہے اور یورپ کے کئی دیگر ممالک میں بھی متنازع سمجھا جاتا ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ یوکِپ نے اپنے انتخابی منشور میں ایسے نکات متعارف کرانے کی کوشش کی ہو۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق 2010 میں بھی پارٹی قیادت نے ابتدائی طور پر مسلمان آبادی کو نشانہ بنانے والی پابندیوں کو انتخابی منشور کا حصہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن بعد میں انھیں منشور سے نکال دیا گیا تھا۔

یوکِپ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ 2017 کے انتخابات میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کر سکے اور برطانیہ میں بسنے والے مسلمانوں کو اس کے منشور سے کوئی خطرہ لاحق ہو

تاہم انتخابی منشور کے اس نوعیت کے متنازع نکات کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ جب یہ سیاسی میدان میں متعارف کرائے جاتے ہیں تو اگرچہ سیاسی مباحثے کے مرکزی دھارے کا حصہ نہ بھی بن پائیں، وہیں کہیں گردو نواح میں موجود رہتے ہیں اور یہ خطرہ موجود رہتا ہے کہ کوئی بھی ہم خیال پارٹی یا پریشر گروپ بعد میں انھیں اپنا سکتا ہے کیونکہ متنازع ہونے کی دہلیز تو ایسے نکات پہلے ہی پار کر چکے ہوتے ہیں اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد یا نقصان کا بھی اندازہ لگایا جا چکا ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں