امریکہ کم جونگ ان کے ہوش ٹھکانے لگانے کے لیے تیار ہے: ایڈمرل ہیری ہیرس

جہاز تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ نے جزیرہ نما کوریا میں جنگی بحری جہاز اور آبدوزیں بھی تعینات کی ہیں

بحرالکاہل کے خطے میں امریکہ کے سب سے اعلیٰ فوجی کمانڈر کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا میں جدید دفاعی میزائل نظام کی تنصیب شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو ’اگر اپنے گھٹنوں پر نہیں تو ان کے ہوش ٹھکانے لے ہی آئے گی۔‘

امریکی پیسیفک کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل ہیری ہیرس نے امریکی کانگریس کو بتایا کہ امریکہ شمالی کوریا کے میزائل خطرے سے نمٹنے کے لیے ’بہترین ٹیکنالوجی کے ساتھ‘ تیار رہے گا۔

میزائل نظام کی تنصیب کے خلاف جنوبی کوریا میں مظاہرے

'ہم جواب میں ایٹمی حملوں کے لیے تیار ہیں'

شمالی کوریا کے پاس کیا کچھ ہے

امریکہ نے جزیرہ نما کوریا میں جنگی بحری جہاز اور آبدوزیں بھی تعینات کی ہیں۔

جبکہ چین کا کہنا ہے کہ امریکی تھاڈ میزئل سسٹم سے سیکورٹی کا عدم توازن پیدا ہوگا۔

خیال رہے کہ خطے میں شمالی کوریا کے میزائل تجربات اور امریکہ کے ساتھ بیان بازی کی وجہ سے حالات کشیدہ ہیں جبکہ اس بارے خدشات بھی پائے جارہے ہیں شمالی کوریا مزید میزائل یا جوہری تجربات کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔

ایڈمرل ہیرس نے امریکی کانگریس میں کہا کہ ان کے خیال میں شمالی کوریا کے پاس جب بھی اس قدر فوجی صلاحیت ہوئی وہ امریکہ پر حملہ کرنے کی کوشش کرے گا۔

انھوں نے ایوان کی مسلح سروسز کمیٹی کو بتایا: ’ہر نئے تجربے کے ساتھ کم اپنے مقصد کے قریب پہنچ رہے ہیں جو کہ امریکی شہروں پر جوہری حملے کرنا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جیسا کہ (امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ) اور (وزیر دفاع جیمز) میٹس کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کے پاس تمام اختیارات موجود ہیں۔‘

ایڈمرل ہیرس کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ’تعلقات مثبت اور حوصلہ افزا ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ مکمل طور پر دفاعی نظام ہے۔ اس کا ہدف شمال کی طرف ہے، مغرب کی جانب نہیں۔ یہ نظام چین کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایڈمرل ہیرس نے کہا کہ شمالی کوریا کے پاس جب بھی اس قدر فوجی صلاحیت ہوئی وہ امریکہ پر حملہ کرنے کی کوشش کرے گا

اسی دوران چین نے اپنی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک میں تیار کیا جانے والا دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز پانی میں اتار دیا ہے۔

چین کے سرکاری میڈیاکے مطابق کہ اس نئے بحری جہاز کو شمال مشرقی چین میں ڈالین کی بندرگاہ پر خشک گودی سے پانی میں اتارا گیا۔ ابھی اس جہاز کو کوئی نام نہیں دیا گیا ہے اور یہ لیاؤننگ کے بعد چین کا دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز ہے۔

چین کے وزیر خارجہ وینگ یی نے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے امریکہ اور جنوبی کوریا کی جنگی مشقوں کو ختم کرنے اور شمالی کوریا سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں