انسانی اعضا کے غیرقانونی تاجر سے ملاقات جو پناہ گزینوں کا شکار کرتا ہے

جعفر

ابو جعفر کی آنکھوں میں فخریہ چمک تھی جب وہ بتا رہے تھے کہ وہ اپنی گزربسر کے لیے کیا کام کرتے ہیں۔

وہ ایک شراب خانے میں سکیورٹی گارڈ ‌کے طور پر کام کیا کرتے تھے لیکن پھر وہ ایک ایسے گروہ سے ملے جو جسمانی اعضا کی تجارت کرتا تھا۔

ان کا کام ایسے لوگوں کی تلاش تھی جو پیسوں کے لیے اپنے جسم کا حصے عطا کر سکیں، اور شام سے تارکین وطن کی لبنان آمد نے بہت سارے مواقع فراہم کر دیے تھے۔

’گردہ نکالیں گے تین لاکھ روپے دیں گے‘

غربت سے تنگ خاندان اعضا فروخت کرنے پر مجبور

چین میں انسانی اعضا کا غیرقانونی بازار

وہ کہتے ہیں: ’میں ان کا فائدہ اٹھاتا ہوں‘ لیکن وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں وہ بہت سارے لوگ شام میں اپنے گھروں میں آسانی سے مر سکتے تھے، اور اپنا کوئی عضو دینا اس ہولناکی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو وہ پہلے ہی دیکھ چکے ہیں۔

’میں ان کا فائدہ اٹھاتا ہوں اور انھیں فائدہ پہنچتا ہے۔‘

ان کا اڈہ جنوبی بیروت کے ایک پرہجوم علاقے میں ایک کافی شاپ ہے، جو ایک شکستہ حال عمارت میں قائم ہے۔

اپنے کمرے کے عقبی حصے کو پرانے فرنیچر کی مدد سے تقسیم کیا گیا ہے اور پنجروں میں بند آسٹریلین طوطوں کی آواز سنائی دیتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہیں سے انھوں نے گذشتہ تین برسوں میں 30 کے قریب پناہ گزینوں کے اعضا کی فروخت کا بندوبست کیا تھا۔

وہ کہتے ہیں: ’میں عموماً گردے کا مطالبہ کرتا ہوں، اس کے علاوہ دیگر اعضا کا بندوبست کر سکتا ہوں۔‘

’ایک بار انھوں نے ایک آنکھ کے بارے میں پوچھا، اور میں ایک ایسا گاہگ ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگیا جو اپنی آنکھ فروخت کرنا چاہتا تھا۔ میں آنکھ کی تصویر بنائی اور تصدیق کے لیے ان لوگوں کو وٹس ایپ کے ذریعے بھیج دی۔ اس کے بعد میں نے گاہک کو بھی پہنچا دیا۔‘

جہاں وہ یہ سب کام کرتے ہیں وہ تنگ گلیاں تارکین وطن سے بھری ہوئی ہیں۔ آج لبنان میں ہر چوتھا فرد شام کی خانہ جنگی سے بھاگ کر یہاں آیا ہوا ہے۔

لبنانی قانون کے مطابق ان میں سے بیشتر افراد کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان میں سب سے زیادہ دردناک حالت فلسطینیوں کی ہے جو پہلے ہی شام میں پناہ گزین سمجھے جاتے تھے اور لبنان آنے کے بعد وہ اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین میں دوبارہ رجسٹرڈ ہونے کے قابل نہیں ہیں۔ وہ پرہجوم کیمپوں میں رہتے ہیں اور انھیں بہت کم امداد ملتی ہے۔

اسی طرح مئی 2015 کے بعد شام سے آنے والے بھی اتنے ہی غیرمحفوظ ہیں کیونکہ لبنانی حکومت نے اقوام متحدہ کو نئے پناہ گزینوں کو رجسٹرڈ کرنے سے روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ابو جعفر کا کہنا ہے کہ ’وہ جو پناہ گرین کے طور پر رجسٹرڈ نہیں ہوسکے مشکلات کا شکار ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں: ’وہ کیا کر سکتے ہیں۔ وہ مایوس ہیں اور ان کے پاس زندہ رہنے کے لیے اپنے اعضا فروخت کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔‘

کچھ تارکین وطن سڑکوں پر بھیک مانگتے ہیں خاص طور پر بچے۔ نوجوان لڑکے جوتے پالش کرتے ہیں، ٹریفک جام کے دوران چیونگ یا ٹشو فروخت کرتے یا چائلڈ لیبر کے طور پر کام کرنے پر مجبور ہوجاتے، جبکہ دیگر جسم فروشی اختیار کرتے۔

لیکن جسمانی عضو کے فروخت پیسے بنانے کا تیز ترین طریقہ ہے۔

ایک بار جب ابو جعفر کو مطلوبہ امیدوار مل جاتا ہے، کسی مخصوص دن اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر کسی پوشیدہ جگہ پہنچایا جاتا ہے۔

بعض اوقات ڈاکٹر کرائے کے گھروں میں قائم عارضی کلینکس میں ان کا آپریشن کرتے ہیں جہاں سرجری سے پہلے ان کے خون کے ٹیسٹ ہوتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’جب آپریشن ہوجاتا ہے میں انھیں واپس لے آتا ہوں۔‘

وہ بتاتے ہیں: ’جب تک ان کا ٹانکے کھل نہیں جاتے میں ایک ہفتے تک ان کی دیکھ بھال کرتا ہوں۔ جیسے ہی ان کے ٹانکے کھلتے ہیں ہم اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔ اگر کوئی مر جائے تو مجھے اس کی پرواہ نہیں۔ میں جو چاہتا تھا مجھے مل گیا۔ اب میرا مسئلہ نہیں ہے کہ گاہک کے ساتھ پیسے ملنے کے بعد کیا ہوا۔‘

ان کا حالیہ گاہک ایک 17 سالہ لڑکا تھا جس نے اپنے والد اور بھائیوں کی ہلاکت کے بعد شام چھوڑ دیا تھا۔

وہ تین سال سے لبنان میں تھا اور کام نہ ملنے کی وجہ سے قرض میں ڈوبا ہوا تھا، اس کی ماں اور پانچ بہنیں تھیں۔

چنانچہ ابو جعفر کے ذریعے اس نے آٹھ ہزار ڈالر میں اپنا گردہ فروخت کرنے کی ہامی بھر لی۔

دو دن بعد دردکش کھانے کے باوجود اس کو آرام نہیں آیا۔ اس کا چہرہ پسینے سے بھرا ہوا تھا اور ان کی پٹیوں سے خون رس رہا تھا۔

ابوجعفر نے یہ نہیں بتایا کہ اس کام کے لیے اس کو کتنے پیسے ملے۔ وہ کہتے ہیں وہ نہیں جانتے اعضا نکالے جانے کے بعد ان کا کیا کیا جاتا ہے، لیکن ان کا خیال ہے کہ انھیں برآمد کیا جاتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں اعضا عطیہ کرنے کے حوالے سے روایتی اور مذہبی اعتراضات کے باعث پیوندکاری کے لیے اعضا کی قلت رہتی ہے۔ انتقال کے بعد بیشتر خاندان فوری طور پر تدفین کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

لیکن ابوجعفر کا دعویٰ ہے کہ لبنان بھر میں کم از کم سات اس جیسے کارندے یہ دھندا کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’یہ کاروبار پھل پھول رہا ہے۔ یہ بڑھ رہا ہے اور اس میں کمی نہیں آرہی۔ شامیوں کی لبنان نقل مکانی کے بعد بہرصورت بڑھے گا۔‘

وہ جانتے ہیں کہ یہ غیرقانونی کام ہے لیکن انھیں حکام کا خوف نہیں۔ درحقیقت وہ اس بارے میں بے باک ہیں۔ ان کا فون نمبر ان کے گھر کی نزدیک دیواروں پر لکھا ہوا ہے۔ اس علاقے میں ان کی عزت بھی ہے اور ان کا خوف بھی۔

بات چیت کے دوران ابوجعفر نے ایک پستول اپنی ٹانگ کے نیچے دبا رکھی تھی۔

وہ کہتے ہیں: ’میں جانتا ہوں کہ جو میں کر رہا ہوں یہ غیرقانونی ہے لیکن میں لوگوں کی مدد کر رہا ہوں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’میں ایسا ہی سمجھتا ہوں۔ گاہک اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی کے لیے رقم کا استعمال کرتا ہے۔

’وہ ایک گاڑی خرید سکتا ہے اور ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کام کر سکتا ہے یا ملک کے باہر سفر کر سکتا ہے۔ میں ان لوگوں کی مدد کر رہا ہوں اور مجھے قانون کی پرواہ نہیں ہے۔‘

بلکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون ہی ہے جو پناہ گزینوں کو ملازمت اور امداد تک رسائی سے روکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’میں کسی کو آپریشن کے لیے مجبور نہیں کر رہا۔ میں کسی کی درخواست پر صرف سہولت فراہم کر رہا ہوں۔‘

وہ ایک سگریٹ سلگاتے ہیں اور ابرو اٹھاتے ہوئے پوچھتے ہیں: ’آپ کی آنکھ کے لیے کتنے؟‘

نوٹ: ابو جعفر فرضی نام ہے اور انھوں نے بی بی سی سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں