یونائیٹڈ ایئر لائن میں رضاکارانہ طور پر سیٹ چھوڑنے پر دس ہزار ڈالر انعام

جیکسن تصویر کے کاپی رائٹ Scott Olson
Image caption مسافر کو طیارے سے گھسیٹ کر نکالنے کے واقعے پر انسانی حقوق کے کارکن جیسی جیکسن نے شکاگو ایئر پورٹ پر احتجاج کیا تھا

امریکہ کی یونائیٹڈ ایئر لائن نےاعلان کیا ہے کہ طیارے میں زیادہ مسافروں کی بکنگ کی صورت میں رضاکارانہ طور پر سیٹ چھوڑنے پر دس ہزار ڈالر کا انعام دیا جائے گا۔

یونائیٹڈ ایئر لائن کا فیصلہ اس واقعے کی تحقیقات کے بعد سامنا آیا ہے جس میں طیارے میں گنجائش سے زیادہ بکنگ ہونے کی صورت میں ایک مسافر کو گھسیٹ کر جہاز سے اتارا گیا تھا۔

٭ یونائیٹڈ ایئر لائنز کے سربراہ نے معافی مانگ لی

٭ طیارے سے نکالا جانے والا مسافر ’اڑیل اور جھگڑالو‘ تھا

٭ ’ہماری پرواز پر گھسیٹنا منع ہے‘

گذشتہ ہفتے پیش آنے والے اس واقعے میں جہاز میں گنجائش سے زیادہ مسافروں کی بکنگ کے بعد جہاز کے عملے نے چار مسافروں کو اپنی مرضی سے سیٹیں چھوڑنے کا کہا تھا۔

جب مسافروں نے رضاکارانہ طور پر سیٹیں چھوڑنے سے انکار کیا تو جہاز کے عملے نے خود چار مسافروں کو چنا لیکن جب ایک مسافر نے سیٹ چھوڑنے سے انکار کیا تو اسے سکیورٹی اہلکاروں کی مدد سے گھسیٹ کر طیارے سے اتارا گیا۔

اس مسافر کو طیارے سے گھسیٹ کر نکالنے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس پر یونائیٹڈ ایئر لائن کو معافی مانگنی پڑی۔

طیارے سے گھسیٹے جانے والے مسافر ویتنامی نژاد ڈاکٹر ڈیوڈ دؤ تھا جو دو عشروں سے امریکی ریاست کنٹکی میں مقیم ہیں۔

ڈاکٹر ڈیوڈ دؤ کو زبردستی باہر نکالنے کی ویڈیو پر سوشل میڈیا میں غصہ پھیلا اور لاکھوں لوگوں نے اس ویڈیو کو دیکھا۔

ویڈیو سامنے کے بعد یونائیٹڈ ایئرلائن نے اپنے ملازمین کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسافر 'اڑیل اور جھگڑالو' تھا اور اسے ہوائی جہاز سے نکالنے کے لیے طے شدہ طریقہ کار پر عمل کیا گیا۔

اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد ایئر لائن کی مالک کمپنی کے حصص میں چار فیصد سے زیادہ کمی ہوئی۔

اسی بارے میں