کم عمری کی شادیوں کے خلاف خواتین علما کا فتویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Indonesia
Image caption خواتین علما نے متعدد تحقیقوں کا حوالہ دیا ہے جن کے مطابق کم عمری میں شادی کرنے والی خواتین کو تعلیم مکمل کرنے نہیں دی جاتی اور تقریباً نصف شادیوں میں طلاق ہو جاتی ہے۔

انڈونیشیا میں چند خواتین علما نے شادی کی کم سے کم عمر بڑھانے کے حوالے سے ایک فتویٰ جاری کیا ہے۔

اس فتوے پر عمل کرنا قانونی طور پر لازم نہیں ہے تاہم اس کے اثرات ہو سکتے ہیں۔

یہ فتویٰ خواتین علما کے تین روزہ اجلاس کے بعد دیا گیا ہے۔

علما نے حکومت سے کہا ہے کہ لڑکیوں کی شادی کی کم سے کم عمر 16 سے بڑھا کر 18 کر دی جائے۔

انڈونیشیا ایک مسلمان اکثریتی ملک ہے اور یہاں کم عمری کی شادیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق انڈونیشیا میں ہر چار میں سے ایک لڑکی کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے کر دی جاتی ہے۔

خواتین علما کا اجلاس جاوا جزیرے پر سیربون میں ہوا اور اسے اپنی نوعیت کا پہلا ایسا اجلاس قرار دیا جا رہا ہے۔

انڈونیشیا میں اکثر فتوے جاری کیے جاتے ہیں جنہیں عموماً انڈونیشیا علما کونسل جاری کرتی ہے۔ یہ کونسل ملک کی سب سے اہم اسلامی اتھارٹی ہے اور اس میں تقریباً تمام اراکین مرد ہیں۔

خواتین علما کے اس اجلاس کی ایک منتظم نینک راہایو نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے کہا کہ ’علما خواتین کی مشکلات سے واقف ہیں، ہم یہ اقدام لے سکتے ہیں، نہ کہ ہم حکومت کا انتظار کریں کہ وہ بچوں کو بچائیں۔‘

خواتین علما نے متعدد تحقیقوں کا حوالہ دیا ہے جن کے مطابق کم عمری میں شادی کرنے والی خواتین کو تعلیم مکمل کرنے نہیں دی جاتی اور تقریباً نصف شادیوں میں طلاق ہو جاتی ہے۔

متعلقہ عنوانات