ترکی میں مزید چار ہزار اہلکار برطرف

رجب طیب اردوغان تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ترکی کی حکومت نے گذشتہ سال جولائی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد مزید چار ہزار عوامی اہلکاروں کو برطرف کر دیا ہے۔

ترکی کی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ برطرف کیے جانے تمام کارکنوں کے بارے میں شبہ ہے کہ ان کے دہشت گرد تنظیموں کے روابط ہیں جو کہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

حکام کے مطابق برطرف کیے جانے والوں میں وزارتِ انصاف کے ایک ہزار سے زیادہ کارکن شامل ہیں۔

ترکی میں 'گولن سے روابط' رکھنے والے نو ہزار پولیس اہلکار برطرف

ترکی میں 'گولن تحریک کے ایک ہزار حامی' گرفتار

حکام کا کہنا ہے کہ برطرف کیے جانے والے اہلکاروں میں آرمی سٹاف کے ایک ہزار کارکنوں کے علاوہ 100 سے زیادہ ایئر فورس کے پائلٹس شامل ہیں۔

اس سے پہلے ترکی کی حکومت نے سنیچر کو آن لائن انسائیکلوپیڈیا وکی پیڈیا کو بلاک کر دیا تھا۔

تازہ ترین برطرفیاں پولیس کی جانب سے بدھ کو امریکہ میں مقیم حکومت مخالف رہنما فتح اللہ گولن کی تحریک سے روابط کے الزام میں اپنے نو ہزار سے زیادہ اہلکاروں کو معطل کرنے اور ایک ہزار سے زیادہ افراد کی گرفتاریوں کے بعد سامنے آئی ہیں۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان امریکہ میں مقیم فتح اللہ گولن پر گذشتہ برس ناکام فوجی بغاوت کروانے کا الزام عائد کرتے ہیں جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔

ترکی کی گورننگ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) کے ناقدین کو خدشتہ ہے کہ ملک اردوغان کی قیادت میں قدامت پسند اسلام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ تاہم اے کے پی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملک کے استحکام کے لیے تبدیلیاں ضروری ہیں۔

وکی پیڈیا کے بانی جمی ویلز نے وکی پیڈیا پر عائد کی جانے والی پابندی کے بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا 'اطلاعات تک رسائی ہر ایک کا بنیادی حق ہے۔ ترکی کے لوگوں میں اس لڑائی میں ہمیشہ تمہارا ساتھ دوں گا۔'

ترکی کی حکومت نے ماضی میں بھی مظاہروں یا دہشت گرد حملوں کے بعد فیس بک اور ٹویٹر کوعارضی طور پر بلاک کر دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں