عراق میں دولت اسلامیہ کے ہاتھوں غلام بنائے گئے درجنوں یزیدی رہا

دہوک تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رہا ہونے والے یزیدیوں کو دہوک کے کیمپوں میں رکھا گیا ہے

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ مذہبی اقلیت گروہ یزیدیوں کے 36 ارکان کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں تین برس کی قید کے بعد آزاد کروا لیا گیا ہے۔

اب انھیں شمالی عراق کے کردی قصبے دہوک میں اقوامِ متحدہ کے مراکز میں لے جایا گیا ہے۔

یہ واضح نہیں وہ کس طرح رہا ہوئے کیوں کہ اقوامِ متحدہ نہیں چاہتی کہ مستقبل میں مزید لوگوں کی رہائی کی کوششیں کرنے والوں کو مشکل درپیش ہو۔

٭ عراق میں یزیدیوں کا مستقبل

دولتِ اسلامیہ نے 2014 میں سنجار نامی قصبے پر قبضے کے بعد ہزاروں یزیدیوں کو ہلاک یا قید کر لیا تھا۔

کرد تنظیم پیش مرگہ نے 2015 میں سنجار دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے چھڑوا لیا تھا لیکن وہ یزیدی رہا نہیں کروائے جا سکے جو ملک کے دوسرے حصوں میں قید تھے۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بتایا کہ ان 36 یزیدیوں میں مرد، عورتیں اور بچے شامل ہیں جنھیں غلام بنایا گیا تھا۔

وہ دو راتیں قبل دہوک پہنچے۔ اب انھیں ان کے خاندان کے افراد کے ساتھ ملایا گیا ہے اور طبی اور نفسیاتی مدد فراہم کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اقوامِ متحدہ کے تخمینے کے مطابق دولتِ اسلامیہ نے تقریباً ڈیڑھ ہزار یزیدی خواتین کو کنیز بنا کر رکھا ہوا ہے

اقوامِ متحدہ کا اندازہ ہے کہ اب بھی دولتِ اسلامیہ کی قید میں ڈیڑھ ہزار کے قریب یزیدی لڑکیاں اور عورتیں موجود ہیں جنھیں ممکنہ طور پر مسلسل جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے یہ نہیں بتایا کہ ان افراد کو کہاں قید رکھا گیا تھا یا انھیں کہاں سے رہا کیا گیا۔

دولتِ اسلامیہ عراق میں مسلسل فوجی دباؤ کا شکار ہے، اور اس سے اس علاقے کا بیشتر حصہ چھین لیا گیا ہے جس پر اس نے 2014 میں قبضہ کر لیا تھا۔

اسی بارے میں