شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان بہت ہوشیار ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

کم جونگ ان تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو مشکل وقت سے اچھی طرح نمٹنے والا 'ہوشیار' رہنما قرار دیا ہے۔

امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کم جونگ نے کم عمری میں اقتدار سنبھالا اور وہ بھی تب جب انھیں 'کچھ انتہائی سخت لوگوں سے نمٹنا' پڑا۔

شمالی کوریا نے میزائل تجربہ کر کے چین اور اس کے صدر کی توہین کی: صدر ٹرمپ

شمالی کوریا کے ساتھ بڑی جنگ بھی چھڑ سکتی ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکہ کا شمالی کوریا پر سخت پابندیاں عائد کرنے پر غور

امریکہ کم جونگ ان کے ہوش ٹھکانے لگانے کے لیے تیار ہے: ایڈمرل ہیری ہیرس

شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے دوران ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں نہیں معلوم کہ کم جونگ ان ذہنی طور پر صحت مند ہیں یا نہیں۔

اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما نے اقتدار میں آنے کے دو سال بعد اپنے چچا کو مروا دیا تھا اور شک کیا جاتا ہے کہ حال ہی میں اپنے سوتیلے بھائی کو قتل کرنے کا حکم بھی انھوں نے ہی دیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ وہ شمالی کوریا کے رہنما کے بارے میں کیا سوچتے ہیں تو ان کا جواب تھا: 'لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا وہ ذہنی طور پر ٹھیک ہیں؟ مجھے نہیں پتہ، لیکن وہ 26 یا 27 برس کے نوجوان تھے جب ان کے والد کا انتقال ہوا، ظاہر ہے کہ وہ بہت سخت لوگوں کا سامنا کر رہے ہیں، خاص طور سے جرنیلوں اور دوسرے لوگوں کا۔'

امریکی صدر کے مطابق 'کم جونگ ان کو بہت کم عمری میں اقتدار ملا. میں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگوں نے ان سے اقتدار چھیننے کی کوشش کی اب چاہے وہ ان کے چچا ہوں یا کوئی لیکن انھوں نے اقتدار کو اپنے پاس برقرار رکھا. ظاہر ہے کہ وہ بہت ہوشیار ہیں۔'

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ انٹرویو ایسے وقت میں دیا ہے جب دو ہفتوں کے دوران دوسری بار شمالی کوریا کا میزائل کا تجربہ ناکام ہوا ہے۔

جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا اس کا متبادل فوجی کارروائی ہے تو انہوں نے کہا: ’مجھے نہیں معلوم میرا مطلب ہے، ہم دیکھیں گے۔'

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ شمالی کوریا کے اتحادی ہیں اور وہ کم جونگ ان پر جوہری اور فوجی سرگرمیوں کو کم کرنے کے لیے 'دباؤ ڈال رہے' ہیں۔ ٹرمپ نے کہا: ’لیکن اب تک شاید کچھ نہیں ہوا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں