برطانیہ:دہشت گردی کے منصوبے میں ملوث مزید تین خواتین گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ GRAHAM EVA
Image caption شمال مشرقی لندن کے رہائشی علاقے کا منظر جہاں پولیس نے ایک مکان پر چھاپہ مارا۔

لندن کے علاقے ولزڈن میں تین خواتین کو حراست میں لیا گیا ہے جن کا تعلق گذشتہ ہفتے پولیس کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے اس آپریشن سے جوڑا جا رہا ہے جس میں ایک خاتون کو مکان پر چھاپہ مارنے کے بعد گولی مار کر زخمی کیا گیا تھا۔

٭برطانوی پولیس نے ’دہشت گردی کا منصوبہ‘ ناکام بنا دیا

٭لندن میں دہشت گردی، برمنگھم میں چھاپے اور گرفتاریاں

٭’برطانیہ کو دہشت گردی کے شدید خطرے کا سامنا ہے‘

پیر کو کی جانے والی تازہ کارروائی میں پولیس نے دو اٹھارہ سالہ اور ایک 19 سالہ خاتون کو گرفتار کیا ہے جن کے بارے میں یہ شبہ ہے کہ وہ دہشت گردی کی کارروائی کرنے کی ہدایات دینے اور تیاری کرنے میں ملوث ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تین گرفتار خواتین لندن سے باہر پولیس کی حراست میں ہیں۔

ان کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب میٹرو پولیس فورس کے انسدادِ دہشت گردی سے متعلق پولیس افسران نے ان کے وارنٹ حاصل کیے جو کہ مشرقی لندن کے تین پتوں پر موجود تھیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائی خفیہ معلومات کی بنا پر پہلے سے جاری آپریشنز کا حصہ ہے جو کہ ولزڈن میں جمعرات کو مارے جانے والے چھاپے سے جڑے ہوئے ہیں۔

21 سالہ جن خاتون کو جمعرات کو گولی ماری گئی تھی انھیں گرفتاری سے قبل اتوار کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔

یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ سنہ 2007 سات یعنی گذشتہ ایک دہائی میں یہ پہلا موقع ہے کہ پولیس نے کسی خاتون پر گولی چلائی۔

پولیس کے نائب اسسٹنٹ کمشنر نیل باسو نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کو دہشت گردی کے ایک منصوبے کو ناکام بنایا گیا تھا۔

اس پتے سے جن افراد کو گرفتار کیا گیا ان میں 21 سالہ محمد امودی کو بھی شامل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption شمالی لندن کے علاقے ولزڈن سے گرفتار ہونے والے محمد امودی۔

سنیچر کو یہ بھی سامنے آیا کہ محمد امودی سے اس سے قبل برطانوی حکام نے اس وقت پوچھ گچھ بھی کی تھی جب ان پر یہ شبہ ہوا کہ وہ شام جا کر دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے لیے کوشاں ہیں۔

جن دیگر افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں 20 سالہ خاتون، 16 سالہ لڑکا اور 28 سال کا ایک مرد اور خاتون شامل ہیں۔

43 سالہ ایک اور خاتون کو کینٹ کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images/ AFP
Image caption جمعرات کو گرفتار ہونے والے محمد علی جو کہ اس وقت جنوبی لندن میں پولیس کی تحویل میں ہیں۔

خیال رہے کہ دہشت گردی کے شبہے میں گرفتار افراد کو عدالتی توثیق کے بعد 14 دن تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

پیر کو تعطیل کی وجہ سے پولیس نے گرفتار افراد کو جنوبی لندن کے پولیس سٹیشن میں تحویل میں رکھنے کے لیے عدالت کی اجازت حاصل کی تھی۔

اتوار کو پولیس کو عدالت کی جانب سے خالد محمد عمر علی مبینہ دہشت گرد سے پوچھ کچھ کرنے کے لیے مزید وقت ملا انھیں وائٹ ہال سے گرفتار کیا گیا تھا۔

27 سالہ خالد محمد عمر علی کو پارلیمینٹ سکوائر کے قریب سے حراست میں لیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں