’کم جونگ ان سے ملنا اعزاز کی بات ہوگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سائسر کا کہنا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ شمالی کوریا اپنا جاریحانہ رویہ ختم کرے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سازگار حالات میں وہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے ملنے کو اعزاز کی بات سمجھیں گے۔

پیر کے روز ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اگر میرا ان سے ملنے سازگار ہوتا تو میں بالکل ان سے ملاقات کرتا۔ میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہوگی۔‘

یاد رہے کہ ایک روز قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو مشکل وقت سے اچھی طرح نمٹنے والا 'ہوشیار' رہنما قرار دیا ہے۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکی پالیسی حلقوں میں تشویش بڑھ رہی ہے۔

صدر ٹرمپ کے تازہ ترین بیان کے بعد وائٹ ہاؤس نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایسی کسی ملاقات کے ہونے کے لیے شمالی کوریا کو بہت سی شرائط کو پورا کرنا ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سائسر کا کہنا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ شمالی کوریا اپنا جاریحانہ رویہ ختم کرے۔

اتوار کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ وہ شمالی کوریا کے رہنما کے بارے میں کیا سوچتے ہیں تو ان کا جواب تھا: 'لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا وہ ذہنی طور پر ٹھیک ہیں؟ مجھے نہیں پتہ، لیکن وہ 26 یا 27 برس کے نوجوان تھے جب ان کے والد کا انتقال ہوا، ظاہر ہے کہ وہ بہت سخت لوگوں کا سامنا کر رہے ہیں، خاص طور سے جرنیلوں اور دوسرے لوگوں کا۔'

امریکی صدر کے مطابق 'کم جونگ ان کو بہت کم عمری میں اقتدار ملا. میں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگوں نے ان سے اقتدار چھیننے کی کوشش کی اب چاہے وہ ان کے چچا ہوں یا کوئی لیکن انھوں نے اقتدار کو اپنے پاس برقرار رکھا. ظاہر ہے کہ وہ بہت ہوشیار ہیں۔'

اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما نے اقتدار میں آنے کے دو سال بعد اپنے چچا کو مروا دیا تھا اور شک کیا جاتا ہے کہ حال ہی میں اپنے سوتیلے بھائی کو قتل کرنے کا حکم بھی انھوں نے ہی دیا تھا۔

گذشتہ دو ہفتوں کے دوران دوسری بار شمالی کوریا کا میزائل کا تجربہ ناکام ہوا ہے۔

جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا اس کا متبادل فوجی کارروائی ہے تو انہوں نے کہا: 'مجھے نہیں معلوم میرا مطلب ہے، ہم دیکھیں گے۔'

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ شمالی کوریا کے اتحادی ہیں اور وہ کم جونگ ان پر جوہری اور فوجی سرگرمیوں کو کم کرنے کے لیے 'دباؤ ڈال رہے' ہیں۔ ٹرمپ نے کہا: 'لیکن اب تک شاید کچھ نہیں ہوا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں