چار گیندوں میں 92 رنز دینے پر بولر پر دس سال کی پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Bangladesh Cricket Board

بنگلہ دیش میں مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ منگل کے روز دو ایسے کلب کرکٹرز پر دس سال کی پابندی لگا دی گئی ہے جنھوں نے مبینہ طور پر بری امپائرنگ کے خلاف احتجاج میں جان بوجھ کر بری بولنگ کروائی۔

بنگلہ دیش کی سیکنڈ ڈویژن کرکٹ لیگ میں ایک کھلاڑی نے امپائر کے اپنی ٹیم کے خلاف دیے جانے والے فیصلوں کے احتجاج میں چار گیندوں میں 92 رنز دے کر میچ ہروا دیا۔

گذشتہ ماہ 50 اوورز کے ایک میچ میں لال متہ نامی کرکٹ کلب کے سجن محمود نے ایکژیئم کرکٹرز کے خلاف اننگز کے پہلے اوور میں مبینہ طور پر جان بوجھ کر 15 نو بال اور 13 وائڈ گیندیں کروائیں جو کہ بائنڈری تک پہنچ گئیں۔ اس سے قبل لال متہ کلب کی ٹیم 14 اوور میں 88 رنز بنا کر آوٹ ہوگئی تھی۔

اس سے قبل ایک اور میچ میں فیئر فائٹر سپورٹنگ کلب کے تسنیم حسن نے سات فیندوں پر 69 رنز دے کر اپنا احتجاج ریاکرڈ کروانے کی کوشش کی۔

بنگلہ دیش کرکٹ بثرڈ کے ڈائریکٹر جلال یونس نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات سے بنگلہ دیش کرکٹ کی ساخ کو نقصان پہنچا ہے اسی لیے ان کے ادارے نے اس پر سخت کارروائی کی ہے۔

دونوں کلبوں پر غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا ہے جبکہ دونوں ٹیموں کے کپتانوں، مینجرز، اور کوچوں پر پانچ پانچ سال کی پابندی لگائی گئی ہے۔

دونوں میچوں میں امپائرنگ کرونے والے اہلکاروں پر بھی چھ چھ ماہ کی پابندی لگائی گئی ہے۔

ان واقعات کے حوالے سے بنائی گئی انتظامی کمیٹی کے سربراہ شیخ سہیل کا کہنا تھا کہ کوئی بولر ایسا باقی ٹیم کی مرضی کے بغیر نہیں کر سکتا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں