’مشرقی وسطیٰ کے 75 فیصد نوجوان خواتین کے معاملے میں پرانی سوچ کے مالک‘

تحقیق تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ عرب خطے میں صرف ایک چوتھائی ایسے مرد ہیں جو بعض جگہوں پر خواتین کے لیے برابری کی حمایت کرتے ہیں جبکہ زیادہ تر مرد اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ خواتین کی بنیادی ذمہ داری گھر سنبھالنا ہے۔

مصر، لبنان، مراکش اور فلسطین کے علاقوں میں کیے جانے والے انٹرویوز سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تر نوجوان اپنے ابا و اجداد جیسے پرانے خیالات ہی رکھتے ہیں۔

ان چار ممالک میں کیے جانے والے اس سروے جس میں دس ہزار افراد جن میں 20 سے 50 فیصد مرد شامل ہیں کا کہنا ہے کہ انھیں ملازمت یا پیسے کی کمی کے باعث اپنے خاندان والوں کا سامنا کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے۔

جرمنی میں سرکاری ملازمین کے نقاب پہننے پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس تحقیق میں سربراہی کرنے والی شیرین ال فیکی نے بی بی سی کو بتایا کہ 'عرب خطے کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہاں مردوں کی سربراہی کا نظام واضح طور پر غالب رہتا ہے جو کہ مردوں کے لیے تو بہترین ہے۔'

شیرین ال فیکی کا کہنا تھا کہ 'لیکن یہ نظام صرف اوپر والے طبقے میں تھوڑے سے لوگوں کے لیے ہی کارگر ہے، جبکہ ان سے نیچے تو بہت سی خواتین ہیں، لیکن اس سروے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بہت سے مردوں کی زندگیاں انتہائی مشکل ہیں۔'

انٹرنیشنل مین اینڈ جینڈر اکوالیٹی سٹڈی ان دی مڈل ایسٹ اینڈ نارتھ افریقہ (ایمیجز مینا) نامی اس سروے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض علاقوں میں 90 فیصد تک مرد ممکنہ طور پر سیکس سے لے کر کپڑوں تک خواتین کی آزادی کو کنٹرول کرتے ہیں۔

نصف یا اس سے بھی کم مردوں کا یہ خیال ہے کہ شادی شدہ خواتین کو بھی کام کرنے کا اتنا ہی حق ہونا چاہیے جتنا کہ مردوں کو حاصل ہے۔ اسی طرح ان چاروں ممالک میں مردوں کی اکثریت خاتون افسر یا باس کو تسلیم کرنے پر رضامند دکھائی دیتے ہیں۔

سروے کے دوران 18 اور 59 سال کی عمر کے 4830 مردوں میں سے ایک چوتھائی یا اس سے زیادہ نے صنفی مساوات کی حمایت کی۔

رپورٹ کے مطابق 'یہ مرد خواتین پر تشدد کے خلاف سوال اٹھاتے ہیں، خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بعض قوانین سے متفق ہیں، قائدانہ پوزیشنز پر خواتین کی حمایت کرتے ہیں اور اکثر بچوں کا خیال رکھنا چاہتا ہیں۔'

دوسری جانب شیرین ال فیکی کا کہنا ہے کہ ان کے لیے یہ حیران کن تھا کہ خواتین نے بھی صنفی کرداروں کے گرد گھومنے والے روایتی تصور اور خیالات کی حمایت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'مثال کے طور پر 70 فیصد سے زائد خواتین نے کہا ہے کہ وہ کام کرنے کا حق چاہتی ہیں لیکن اکثریت اس بات پر رضامند ہیں کہ کام تھوڑا ہو تو مردوں کو پہلے موقع ملنا چاہیے۔'

ایمیجز کو دو درجن سے زائد ممالک میں تحقیق کرنے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ صنفی مساوات کے بارے میں بزرگوں کے مقابلے میں نوجوان زیادہ آزاد خیال ہیں لیکن لبنان کو چھوڑ کر مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں بظاہر ایسا نہیں ہے۔

شیرین ال فیکی نے بتایا کہ 'نوجوان خواتین اپنے ماؤں یا دادیوں کے مقابلے میں زیادہ کھلی سوچ کی رکھتی ہیں جبکہ نوجوان مرد بظاہر اپنے بڑوں سے بھی زیادہ قدامت پسند ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں