مسئلہ فلسطین پر صدر ٹرمپ اور محمود عباس کی ملاقات

محمود عباس تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں فلسطینی رہمنا محمود عباس سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کے مذاکرات کے عمل کو دوبارہ بحال کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ صدر ٹرمپ فلسطینی رہنما سے فلسطین کے 'دو ریاستی' اور 'یک ریاستی' حل کے حوالے سے بات کریں گے۔

سابق امریکی صدور کے برعکس صدر ٹرمپ نے فلسطین کے مسئلے پر مبہم موقف اختیار کر رکھا ہے۔ مذاکرات سے قبل امریکی عہدیداروں نے فلسطینی اہلکاروں کو باور کرایا ہے کہ امریکی صدر عرب لیگ کے 2002 کے امن فارمولے کے تحت مسئلہ فلسطین کے حل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

فلسطینی رہنما امریکی صدر سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے عرب فارمولے کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

عرب فارمولے کے تحت 1967 کی سرحد کے اندر فلسطینی ریاست کا قیام تجویز کیا گیا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ فلسطینی رہنما سے تقاضا کیا جائے گا کہ وہ ایسے فلسطینیوں کے خاندان کو ادائیگیاں روک دیں جو یا تو جیلوں میں بند ہیں یا اسرائیلی فورسز کے ساتھ لڑتے ہوئے مارے جا چکے ہیں۔

فلسطین تنازعے کا حل، ایک ملک دو ریاستیں؟

حماس نے نئی تاریخی پالیسی کا اعلان کر دیا

اسرائیلی حکومت کا موقف ہے کہ یہ ادائیگیاں لوگوں کو دہشتگردی میں ملوث ہونے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ لیکن فلسطینی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ محمود عباس کے لیےایسا کرنا سیاسی طور پر بہت مشکل ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا اصل مقصد مشرق وسطیٰ میں امن کا قیام ہے اور بدھ کے روز فلسطینی اتھارٹی کے رہنما سے بات چیت کے دوران ان کی ساری توجہ اسی پر مرکوز ہو گی۔

واشنٹگن میں بی بی سی کی نامہ باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر فلسطینی اہلکار صدر ٹرمپ کےاسرائیل کی حمایت میں جاری ہونے والے بیانات کی وجہ سے تشویش کا شکار تھے لیکن انھیں باور کرایا گیا ہے کہ امریکی صدر مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے سنجیدہ ہیں اور وہ عرب لیگ کے منظور شدہ فارمولے کی روشنی میں اس مسئلے کا حل چاہیں گے۔

2002 میں پیش ہونے والے اس فارمولے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 1967 سے پہلے والی پوزیشن پر واپس چلا جائے اور آزاد فلسطینی ریاست کو قبول کر لے۔ ایسا ہونے کی صورت میں عرب لیگ کے ممبر ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے۔

بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق فلسطینی رہنما کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ دو ریاستی حل کے منصوبے پر امریکی صدر کو قائل کریں۔ صدر ٹرمپ نے جنوری میں کہا تھا کہ وہ دو ریاستی اور ایک ریاستی حل پر غور کر رہے ہیں اور وہ اسی فارمولے کی حمایت کریں گے جو دونوں فریقوں کو پسند ہو۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں