شام میں محفوظ علاقوں کے قیام کو بین الاقوامی حمایت حاصل ہے: صدر پوتن

شام تصویر کے کاپی رائٹ AFP

روسی صدر ولادی میر پوتن کا کہنا ہے کہ شام اور روس سمیت امریکہ،ایران اور ترکی شام میں نتیجہ خیز جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے محفوظ علاقوں 'سیف زونز' کے قیام پر اتفاق کرنے کے قریب ہیں۔

صدر پوتن نے کہا ہے کہ وہ نو فلائی زون کے حق پر زور دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ نے انھیں منگل کو ایک فون کال کے ذریعے بتایا کہ وہ اس خیال کی حمایت کرتے ہیں۔

ٹرمپ اور پوتن کا رابطہ، پابندیوں کا معاملہ ’زیرِغور‘ آئے گا

ٹرمپ اور پوتن کا شام میں جنگ بندی پر اتفاق

بحیرہ اسود میں ترک صدر رجب طیب اردوغان سے ملاقات کے بعد ولادی میر پوتن کا کہنا تھا کہ ’جنگ بندی کو یقینی اور موثر بنانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ محفوظ علاقے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ان علاقوں میں طیارے نہیں جائیں گے، اور فوجی کارروائیاں بھی نہیں ہوں گی۔‘

روسی صدر کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے فیصلہ کا قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شام کے مسئلے پر ہونے والے مذاکرات میں کیا جائے گا۔

تاہم شامی باغی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ آستانہ میں ہونے والے مذاکرات میں مسلسل فضائی کارروائیوں کی وجہ سے شرکت نہیں کریں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس روسی منصوبے کے تحت باغیوں کے زیر انتظام شمال مغربی صوبے ادلیب، مرکز میں صوبہ حمص کے بعض حصوں، جنوب اور دمشق کے قریب مخالفین کے علاقوں میں محفوظ علاقے بنائے جانے ہیں۔

اے ایف پی کو ملنے والی اس دستاویز کے مطابق محفوظ علاقوں کی وجہ سے تشدد کا اختتام ہو گا اور امدادی کاموں کے ساتھ ساتھ پناہ گزینوں کی واپسی بھی ممکن ہو سکے گی۔ ان علاقوں کے گرد چیک پوسٹیں بنائی جائیں گی۔ غیر ملکی فوجیوں کو نگرانی کے لیے تعینات کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خیال رہے کہ شام میں جنگ کا آغاز 2011 میں ہوا تھا

خیال رہے کہ گذشتہ روز بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پوتن شام میں جاری لڑائی کو روکنے کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔

روس اور امریکہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات کے مطابق دونوں قائدین کے درمیان معنی خیز گفتگو ہوئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں