فوٹوگرافر جس نے اپنی موت کا لمحہ خود عکس بند کیا

HILDA CLAYTON تصویر کے کاپی رائٹ HILDA CLAYTON
Image caption یہ تصویر کلیٹن نے اپنی موت سے لمحہ قبل لی

امریکی فوج نے اپنی اس خاتون فوٹو گرافر کی وہ آخری تصاویر جاری کر دی ہیں جو انھوں نے اس دھماکے سے عین پہلے لی تھیں جس میں ان کے ساتھ ساتھ چار افغان فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔

22 سالہ ہلڈا کلیٹن اور چار افغان فوجی دو جولائی سنہ 2013 کو ایک تربیت کے دوران مارٹر گولہ پھٹنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ حادثہ افغانستان کے مشرقی صوبے لغمان میں پیش آیا تھا۔

امریکی فوج نے ایک افغان کی بنائی ہوئی تصویر بھی جاری کی ہے جسے کلیٹن فوٹو جرنلزم کی تربیت دے رہی تھیں۔ یہ شخص بھی مرنے والوں میں شامل تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ US ARMY
Image caption یہ تصویر اس افغان فوجی کی ہے جس کی تربیت کلیٹن کر رہی تھیں

یہ تصاویر فوجی جریدے میں شائع کی گئیں۔

جریدے میں لکھا گیا کہ ’کلیٹن کی موت سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہیں کہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین فوجیوں کو بھی تربیت اور لڑائی کے دوران کس قدر خطرناک صورتحال کا سامنا ہوتا ہے۔‘

یہ تصاویر کلیٹن کے خاندان کی اجازت سے شائع کی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ US ARMY
Image caption کلیٹن کے نام سے ایک ایوارڈ بھی منسوب کیا گیا ہے

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کلیٹن نے نہ صرف افغان فورسز کو مضبوط بنانے کی سرگرمیوں میں مدد کی بلکہ انھوں نے اس میں موجود خطروں کا سامنا بھی کیا۔‘

کلیٹن وژول انفارمیشن سپیشلسٹ تھی۔ ان کا تعلق امریکی ریاست جارجیا سے تھا۔ امریکی محکمۂ دفاع نے ان کے نام سے ایک اعزازی ایوارڈ بھی رکھا ہے۔

فوجی فوٹو گرافرز کو پانچ روزہ جسمانی اور تکنیکی ٹیسٹ پاس کرنا ہوتا ہے جس کے بعد انھیں سپیشلسٹ ہلڈا کلیٹن بہترین جنگی کیمرہ نامی یہ ایوارڈ دیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ DVIDS
Image caption ایک فوجی سالانہ ہلڈا کلیٹن ایوارڈ میں حصہ لیتے ہوئے

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں