صدر ٹرمپ کا ہیلتھ کیئر بل ایوانِ نمائندگان میں منظور

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی یہ عظیم پلان اب سینٹ سے بھی پاس ہوگا۔

امریکہ میں ایوانِ نمائندگان نے ایک نیا ہیلتھ کیئر بل منظور کر لیا ہے جس کے بعد صدر ٹرمپ کا اوباما کیئر کو منسوخ اور تبدیل کرنے کا انتخابی وعدہ پورا ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

امریکن ہیلتھ کیئر ایکٹ کے منظور ہونے میں صرف ایک اضافی ووٹ تھا اور کئی ہفتوں سے اس حوالے سے رپبلکن پارٹی کے اندر بھی سخت بحث جاری تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ اوباما کیئر کے کچھ حصوں پر غور کے لیے تیار

اس بل کی تمام ڈیموکریٹک اراکین نے مخالفت کی اور ڈیموکریٹک پارٹی کی ایوان میں سربراہ نینسی پلوسی نے ایک بزدلانہ انتخاب قرار دیا۔

ادھر صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی یہ عظیم پلان اب سینٹ سے بھی پاس ہوگا۔

بل کی منظوری کے بعد وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ یہ اوباما کیئر کی منسوخی اور تبادلہ ہے۔‘

نئے صدر کے لیے قانون سازی کے حوالے سے یہ پہلی اہم کامیابی ہے جو کہ اقتدار سنبھالنے کے تین ماہ کے بعد آئی ہے۔

یاد رہے کہ مارچ میں رپبلکن پارٹی میں داخلی طور پر اس بل کے حوالے سے اختلافات کی وجہ سے اسے اس وقت چھوڑ دیا گیا تھا۔

تاہم یہ کامیابی انتہائی چھوٹے مارجن کے ساتھ آئی ہے۔ اسے پاس کرنے کے لیے 216 ووٹ درکار تھے اور اسے 217 ووٹ حاصل ہوئے۔

دوسری جانب اس بل کی انتہائی تیز تیاری جس کے تحت باغی رپبلکن اراکین کی حمایت حاصل کی گئی ہے، تنقید کا نشانہ بن گئی ہے۔

اب تک یہ واضح نہیں کہ اس بل پر اخراجات کتنے ہوں گے یا کتنے لوگوں کی بیما پالیسی ختم ہوجائے گی کیونکہ کانگریس کے بجٹ آفس کو اس جا جائزہ لینے کا وقت نہیں ملا ہے۔

تازہ ترین تبدیلیوں سے قبل کانگریس کے بجٹ آفس کا تخمینہ تھا کہ 2018 میں 14 ملین امریکی اپنی بیما پالیسی کھو بیٹھیں گے۔

یاد رہے کہ صدر اوباما کے 2010 کے بل اوباما کیئر کی وجہ سے دو کروڑ امریکی شہریوں کو ہیلتھ انشورنس حاصل ہوگئی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں