فرانس میں انتہائی دبلی فیشن ماڈلز پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس سے پہلے اٹلی، سپین اور اسرائیل یہ قانون منظور کروا چکے ہیں

فرانس میں غیر صحت مند نظر آنے والی اور انتہائی دبلی فیشن ماڈلز پر پابندی کا قانون نافذ العمل ہو گیا ہے۔

اب ماڈلز کو اپنی جسمانی صحت سے متعلق ڈاکٹرز کا سرٹیفکیٹ دکھانا ہو گا جس میں ان کی جسامت کے لحاظ سے وزن کی تفصیل درج ہو گی۔

فرانس کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد خوراک کے عدم توازن اور نام نہاد خوبصورتی کے نا قابلِ حصول نمونوں سے نمٹنا ہے۔

یکم اکتوبر سے ایسی تمام تصاویر جن میں ڈیجیٹل تبدیلیاں کی گئی ہوں گی ان پر لیبل لگا ہوگا۔

ایسی تصاویر جہاں ماڈل کے حلیے کو بدلنے کی ضرورت ہو گی وہاں یہ بات بتائی جائے گی کہ تصویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔

اس سے پہلے متعارف کروائے گئے قانون میں ماڈلز کے لیے کم سے کم بی ایم آئی یعنی جسم اور قد کے لحاظ سے وزن تجویز کیا گیا تھا تاہم اس پر فرانس کی ماڈلنگ ایجنسیوں نے احتجاج کیا تھا۔

سنہ 2015 میں اراکان پارلیمان کے حمایت یافتہ لیکن حتمی قانون میں ڈاکٹروں کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ ماڈل کے وزن، عمر اور جسم کی ساخت کے مطابق یہ طے کریں کہ آیا وہ بہت دبلی ہے یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس قانون کو توڑنے والے آجروں کو 75000 یورو اور چھ ماہ تک کی قید کی سزا ہو گی

اس قانون کو توڑنے والے آجروں کو 75000 یورو اور چھ ماہ تک کی قید کی سزا ہو گی۔

فرانس کے صحت اور سماجی بہبود کی وزیر مارسول ٹورانی کا کہنا تھا ’طے شدہ معیار پر مبنی اور غیر حقیقی جسموں کی تصاویر دیکھ کر نوجوان خود تحقیری میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کی خود اعتمادی میں کمی ہوتی ہے اور یہ سب صحت پر بری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔‘

فرانس پہلا ملک نہیں ہے جہاں دبلی اور کم وزن ماڈلز کے خلاف قانون منظور ہوا۔ اس سے پہلے اٹلی، سپین اور اسرائیل یہ قانون منظور کروا چکے ہیں۔

فرانس میں 30000 سے 40000 کے درمیان لوگ اینوریکسیا یعنی بھوک کی کمی کا شکار ہیں جن میں سے 90 فیصد خواتین ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں