شام: محفوظ زونز کے معاہدے کے بعد کشیدگی کی اطلاعات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام میں باغی فورسز کے کچھ نمائندوں نے اس معاہدے پر غصے کا اظہار کیا ہے

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شمال مغربی علاقوں میں محفوظ علاقوں کے قیام کے معاہدے کے کچھ دیر بعد ہی باغیوں کے زیرِ اختیار علاقوں سے شیلنگ اور گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

اس سے پہلے شام میں محفوظ زونز بنانے کے حوالے سے روس کی جانب سے اعلان کردہ ایک معاہدے پر عمل درآمد شروع کیا گیا تھا۔ معاہدے کے مطابق ان علاقوں میں حملے نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

چار محفوظ رونز کا یہ معاہدہ روس اور ایران کے درمیان جمعرات کو قزاقستان میں طے پایا۔ یاد رہے کہ روس اور ایران دونوں ہی صدر بشار الاسد کے حمایتی ہیں۔

اس معاہدے میں ضامن کا کردار ادا کرنے کے لیے ترکی نے حامی بھری ہے۔ روس کا موقف ہے کہ امریکہ، اقوام متحدہ اور سعودی عرب بھی اس معاہدے کی حمایت کرتے ہیں۔

تاہم شام میں باغی فورسز کے کچھ نمائندوں نے اس معاہدے پر غصے کا اظہار کیا ہے۔

جمعے کے روز روسی نائب وزیرِ دفاع نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ محفوظ زونز میں تمام جانب سے حملے رات بارہ بجے تک رک جانے چاہییں۔

اس معاہدے کا مقصد ’مہاجرین کی باحفاظت اور رضاکارانہ واپسی‘ کو عمل میں لانا اور طبی امداد کی رسد کو بحال کرنا ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ یہ محفوظ زونز چھ ماہ تک رہیں گے۔ اس معاہدے کے تحت چار محفوظ زونز بنائے جائیں گے:

  • شمال مغربی صوبے ادلب میں باغیوں کے ریزِ انتظام علاقے اور ان سے ملحقہ اضلاع لٹاکیہ، حلب، اور حما
  • حمص صوبے کے وسط کے کچھ علاقے جہاں باغیوں کا کنٹرول ہے
  • دارالحکومت دمشق کے قریب مشرقی غوطہ کے علاقے
  • ادلب کی سرحد کے قریب درعا کا علاقہ

روسی نائب وزیرِ دفاع نے بتایا کہ ان علاقوں میں یکم مئی سے کوئی روسی فضائی کارروائی نہیں کی گئی۔

تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ شام میں دیگر علاقوں میں روسی فضائیہ کارروائی جاری رکھے گی۔

جمعرات کو ہونے والے مذاکرات میں شام کے باغی نمائندوں نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا ہے۔ جائے وقوع پر موجود صحافیوں کا کہنا ہے کہ باغی فورسز معاہدے میں ایران کے بطور ضامن شامل ہونے کے حوالے سے خدشات رکھتے ہیں۔

اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ کیا باغی افواج اس معاہدے پر عمل درآمد کریں گے یا نہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں