’ٹیلکم پاؤڈر سے کینسر ہوا‘، عدالت نے جانسن اینڈ جانسن کو گیارہ کروڑ جرمانہ کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیلکم پاؤڈر کے کینسر سے منسلک ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔

ادویات بنانے والی کمپنی جانسن اینڈ جانسن کو ایک امریکی عدالت نے حکم دیا ہے کہ وہ ایک خاتون کو گیارہ کروڑ جرمانہ ادا کرے۔ خاتون کا دعویٰ ہے کہ جانسن اینڈ جانسن کا ٹیلکم پاؤڈر استعمال کرنے سے انھیں کینسر ہوگیا۔

62 لوئیس سلیمپ سالہ کا کہنا ہے کہ چار دہائیوں تک ٹیلکم پاؤڈر استعمال کرنے کے بعد انھیں اوویریئن کینسر ہوگیا۔

وکیلِ استغاثہ کا کہنا ہے کہ جانسن اینڈ جانسن نے اپنے صارفین کو کینسر کے ممکنہ خطرات کے بارے میں صحیح سے تنبیہ نہیں کی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیلکم پاؤڈر کے کینسر سے منسلک ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔ جانسن اینڈ جانسن کا کہنا ہے کہ وہ عدالتی حکم کے خلاف اپیل کریں گے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ شہر سینٹ لوئس میں دیے جانے والے اس عدالتی حکم نامے میں متعین کی گئی جرمانے کی رقم جانسن اینڈ جانسن کے خلاف ٹیلکم پاؤڈرز کے حوالے سے 2400 کیسز میں سب سے زیادہ ہے۔

وئیس سلیمپ کا پہلی بار 2012 میں کینسر تشخیص کیا گیا تھا۔ اس وقت وہ ان کے جگر تک پہنچ چکا ہے اور اس وقت کیمو تھراپی کروا رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے جانسن اینڈ جانسن کا بےبی پاؤڈر اور شاور ٹو شاور پاؤڈر استعمال کیا۔

ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’ایک دفعہ پھر ہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ کمپنیاں سائنس کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکہ کی خواتین کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے انکار کرتے ہیں۔‘

کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ ’ہم مزید تحقیق کی تیاری کر رہے ہیں اور ہم جانسن اینڈ جانسن بےبی پاؤڈر کے محفوظ ہونے کا دفاع کرتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں