سینیٹ میں صدر ٹرمپ کا ہیلتھ کیئر بل منظور ہونا ’ناممکن کے قریب‘ ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رپبلکن پارٹی کے اپنے ہی اراکینِ سینیٹ کا کہنا ہے کہ مجوزہ بل کو سینیٹ میں اتنی ترامیم کرنی پڑیں گی کہ اس کا منظور ہونا مشکل ہے

امریکہ میں رپلکن پارٹی کے سینیٹر صدر ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ ہیلتھ کیئر بل ملک کے ایوانِ بالا یعنی سینٹ سے منظور کروانے کے حوالے سے زیادہ پرامید دکھائی نہیں دیتے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں اوباما کیئر نامی صحت عامہ کے نظام کے بارے میں قانون کو منسوخ اور تبدیل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

اس حوالے سے جمعے کو امریکہ میں ایوانِ نمائندگان نے ایک نیا ہیلتھ کیئر بل منظور کر لیا تھا جس کے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اوباما کیئر اب ختم ہونے کو ہے۔

تاہم رپبلکن پارٹی کے اپنے ہی اراکینِ سینیٹ کا کہنا ہے کہ مجوزہ بل کو سینیٹ میں اتنی ترامیم کرنی پڑیں گی کہ اس کا منظور ہونا مشکل ہے۔

ایک سینیٹر نے اس بل کی منظوری ’ناممکن کے قریب‘ بتائی۔

ادھر ڈیموکرٹک پارٹی کو خدشہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے بل کی وجہ سے بہت سے شہری اپنی بیما پالیسی کھو بیٹھیں گے۔

ایوانِ نمائندگان میں بھی صدر ٹرمپ کے امریکن ہیلتھ کیئر ایکٹ کے منظور ہونے میں صرف ایک اضافی ووٹ تھا اور کئی ہفتوں سے اس حوالے سے رپبلکن پارٹی کے اندر بھی سخت بحث جاری تھی۔

اس بل کی تمام ڈیموکریٹک اراکین نے مخالفت کی اور ڈیموکریٹک پارٹی کی ایوان میں سربراہ نینسی پلوسی نے ایک بزدلانہ انتخاب قرار دیا تھا۔

بل کی منظوری کے بعد وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'آپ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ یہ اوباما کیئر کی منسوخی اور تبادلہ ہے۔'

ایوانِ نمائندگان میں اس بل کی منظوری نئے صدر کے لیے قانون سازی کے حوالے سے یہ پہلی اہم کامیابی تھی جو کہ اقتدار سنبھالنے کے تین ماہ کے بعد آئی۔

یاد رہے کہ مارچ میں رپبلکن پارٹی میں داخلی طور پر اس بل کے حوالے سے اختلافات کی وجہ سے اسے اس وقت چھوڑ دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈیموکریٹک پارٹی کی ایوان میں سربراہ نینسی پلوسی نے ایک بزدلانہ انتخاب قرار دیا تھا

تاہم یہ کامیابی انتہائی چھوٹے مارجن کے ساتھ آئی ہے۔ اسے پاس کرنے کے لیے 216 ووٹ درکار تھے اور اسے 217 ووٹ حاصل ہوئے۔

دوسری جانب اس بل کی انتہائی تیز تیاری جس کے تحت باغی رپبلکن اراکین کی حمایت حاصل کی گئی ہے، تنقید کا نشانہ بن گئی ہے۔

اب تک یہ واضح نہیں کہ اس بل پر اخراجات کتنے ہوں گے یا کتنے لوگوں کی بیما پالیسی ختم ہوجائے گی کیونکہ کانگریس کے بجٹ آفس کو اس جا جائزہ لینے کا وقت نہیں ملا ہے۔

تازہ ترین تبدیلیوں سے قبل کانگریس کے بجٹ آفس کا تخمینہ تھا کہ 2018 میں 14 ملین امریکی اپنی بیما پالیسی کھو بیٹھیں گے۔

یاد رہے کہ صدر اوباما کے 2010 کے بل اوباما کیئر کی وجہ سے دو کروڑ امریکی شہریوں کو ہیلتھ انشورنس حاصل ہوگئی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں