اسمٰعیل ھنیہ حماس کے نئے سربراہ منتخب

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حماس کے نئے سربراہ اسمٰعیل ھنیہ

فلسطینی عسکریت پسند گروہ حماس نے اعلان کیا ہے کہ اسمٰعیل ھنیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ منتخب کیا گیا ہے۔

ان کے پیشرو خالد مشعل دو مدتوں کی حد پوری کر چکے ہیں۔حماس کے سابق سربراہ نے قطر میں رہائش اختیار کر رکھی تھی ان کے برعکس نو منتخب سربراہ غزہ میں رہائش پزیر ہیں جہاں حماس 2007 سے حکومت کر رہی ہے۔

54 سال کے اسمٰعیل ھنیہ کو حقیقت پسند سمجھا جاتا ہے اور خیال ہے کہ وہ عالمی سطح پر تنہا گروہ کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کریں گے۔

اس ہفتے حماس کی جانب سے نئی پالیسی کا اعلان کیا گیا جسے حماس کے نظریے میں نرمی لانے کی کوشش قرار دیا گیا۔

حماس کے ترجمان فوزی برحوم نے ہفتے کو اس بات کی تصدیق کی کہ اسمٰعیل ھنیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

حماس کو یا تو مکمل طور پر یا اس کے عسکری دھڑے کو اسرائیل، امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ اور دوسری طاقتوں کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔

اس ہفتے حماس نے اپنے قیام کے وقت شائع ہونے والے چارٹر کے بعد پہلی بار نئی پالیسی کا اعلان کیا جس میں پہلی بار تنظیم نے 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق عبوری فلسطینی ریاست کے قیام کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کی مگر اسرائیل کی ریاست کو قبول نہیں کیا۔

حماس نے نئی تاریخی پالیسی کا اعلان کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حماس کے مطابق نئی پالسی کے باوجود 1988 کا چارٹر برقرار ہے

نئے چارٹر کے مطابق حماس کی جدوجہد یہودیوں کے خلاف نہیں بلکہ 'جارحیت پسند صیہونی قابضوں' کے خلاف ہے۔

1988 کے چارٹر میں یہود مخالف زبان کے استعمال پر شدید مذمت کی گئی تھی۔

فوزی برحوم نے کہا کہ 'نئی دستاویز ہمیں بیرونی دنیا سے روابط قائم کرنے کا مواقع فراہم کرے گی۔'

حماس کا نیا منشور کتنا مختلف

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتنیاہو کے ترجمان نے کہا کہ حماس 'دنیا کو بیوقوف بنانے کی کوشش کررہی ہے مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہونگے۔'

نئے دستاویز میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایسا نہیں ہے کہ حماس اب اسرائیلی ریاست کو قبول کرتا ہے اور یہ کہ وہ اسرائیل کے خلاف تشدد کی حمایت نہیں کرتا۔

پچھلی ایک دہائی سے اسرائیل اور مصر نے غزہ کی ناکہ بندی جاری رکھی ہے جس کا مقصد علاقے سے عسکری حملوں کو روکنا ہے۔ اس کے نتیجے میں غزہ کی معیشت تباہ ہوگئی ہے اور اس کے 19 لاکھ رہائیشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حماس اور مصر کے درمیان تعلقات میں اس وقت ذرا بہتری آئی جب اسمٰعیل ھنیہ نے دوران سال قاہرہ کا دورہ کیا۔

اسمٰعیل ھنیہ غزہ کے مغرب میں مہاجرین کے کیمپ شاطی میں پیدا ہوئے۔ گو کہ انہیں حماس کے روحانی لیڈر مرحوم شیخ احمد یاسین کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے انہیں پزیرائی تب حاصل ہوئی جب انہوں نے فلسطینی قانون ساز انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور جنوری 2006 میں وہ وزیر اعظم بنے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں