’بموں کی ماں‘ پر پوپ فرانسس کا اعتراض

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پوپ فرانسس نے امریکی فوج کی جانب سے اب تک میدان جنگ میں استعمال ہونے والے سب سے بڑے غیر جوہری ہتھیار ’تمام بموں کی ماں‘ کے نام پر تنقید کی ہے۔

٭ننگرہار: 'بموں کی ماں سے دولت اسلامیہ کے 90 جنگجو ہلاک‘

ویٹیکن میں طالبابعلموں اور سامعین سے خطاب میں پوپ فرانسس نے کہا کہ جب انھوں نے یہ نام سنا تو انھیں بہت شرمندگی ہوئی۔

انھوں نے سوال کیا کہ ’ماں زندگی دیتی ہے اور یہ موت دیتا ہے اور ہم اس ڈیوائس کو ماں کہہ رہے ہیں۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟

یاد رہے کہ اپریل کی 13 تاریخ کو امریکہ نے مشرقی افغانستان میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے زیرِ استعمال سرنگوں کے نیٹ ورک پر اپنا سب سے طاقتور غیر جوہری بم گرایا تھا۔ اس کا وزن 9800 کلوگرام تھا۔

امریکی فوج کے مطابق یہ بم صوبہ ننگرہار میں واقع دولت اسلامیہ کے سرنگوں پر مبنی کمپلیکس پر گرایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PUBLIC DOMAIN
Image caption اس بم کا پہلا تجربہ سنہ 2003 میں کیا گیا تھا۔

جی بی یو 43/بی نامی اس بم کو 'بموں کی ماں' کہا جاتا ہے اور یہ تاریخ کا سب سے بڑا غیر جوہری بم ہے جو امریکہ نے کسی بھی کارروائی میں استعمال کیا ہے۔

اس بم کا پہلا تجربہ سنہ 2003 میں کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ پوپ کا یہ بیان ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے 24 مئی کو ہونے والی ملاقات سے پہلے سامنے آیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں