کیا اپوزیشن کے لیے صورتحال خطرناک ہے؟

انگلینڈ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption موجودہ انتخابی نتائج نے یو کے انڈیپینڈنٹ پارٹی کے مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

اگر گذشتہ ہفتے ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو آٹھ جون کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کا ٹریلر مان لیا جائے تو یہ فلم لیبر پارٹی اور یو کے انڈیپینڈنٹ پارٹی یا یوکپ کے لیے کافی خطرناک لگ رہی ہے۔

ان انتخابات میں لیبر پارٹی ویلز میں تو مکمل تباہی سے بچ گئی اور کارڈِف، نیویورٹ اور پورٹ ٹالبوٹ میں ووٹروں نے اس کی کچھ لاج رکھ لی، مگر سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ میں اسے زبردست ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔

برطانیہ میں قبل از وقت انتخابات کروانے کا اعلان

پارٹی نے نہ صرف 20 سال بعد سکاٹ لینڈ کے سب سے بڑے شہر گلاسگو میں سٹی کونسل کا کنٹرول کھو دیا بلکہ یہ اپنے گڑھ ویسٹ مڈلینڈز میں بھی میٹرو میئر کا الیکشن ہار گئی۔

گلاسگو میں اس بار سکاٹش نیشنلسٹ پارٹی فاتح رہی جب کہ ویسٹ مڈلینڈز میں اس کے امیدوار سیان سائمن کو ڈیپارمنٹل سٹور جان لیوئس کے سابق ایم ڈی اور ٹوری امیدوار اینڈی سٹریٹ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا باوجود اس کے کہ وہ وہاں کے ایشیائی بالخصوص پاکستانی نژاد ووٹروں میں بہت مقبول ہیں اور انتخابی مہم کے دوران کئی موقعوں پر مساجد اور اسلامی مراکز کے دورے کرتے دیکھے گئے۔

اینڈی سٹریٹ بھاری تنخواہ کی نوکری کو چھوڑ کر لوکل کونسل کی سیاست میں داخل ہوئے ہیں اور یوں دکھائی دیتا ہے کہ ویسٹ مڈلینڈ کے لوگوں نے اس بات کو بہت سراہا ہے۔

ماضی قریب میں برمنگھم اور ویسٹ مڈلینڈز کے مضافاتی علاقوں میں لیبر کی مضبوط پوزیشن کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گذشتہ پارلیمان میں وہاں کی 28 میں سے 21 نشستیں لیبر کے پاس تھیں اور یہ پارٹی گذشتہ 25 سالوں سے دیگر پارٹیوں کو ہراتی چلی آ رہی تھی۔

لیبر کے امیدوار اور سابق وزیر اینڈی برنہم مانچسٹر میٹرو میئر کا انتخاب جیت گئے جبکہ لیور پول میٹرو میئر کے الیکشن میں سابق رکن اسمبلی سٹیو رودرم کو کامیابی حاصل ہوئی لیکن یہ کامیابیاں لیبر پارٹی کے نقصان کی تلافی کے لیے ناکافی دکھائی دے رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آٹھ جون کو ہونے والے عام انتخابات لیبر پارٹی اور یوکپ کے لیے کافی خطرناک لگ رہے ہیں

جیساکہ گذشتہ دنوں انھیں صفحات پر بیان کیا گیا، دائیں بازو کی سیاسی جماعت یو کے انڈیپینڈنٹ پارٹی یا یوکپ کی سیاسی پریشانیاں جنرل الیکشن کے اعلان کے بعد سے عیاں تھیں۔ پارٹی اب تک برطانیہ کو یورپ سے آزادی دلانے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر کاربند تھی اور جب گذشتہ سال مئی میں بریگسٹ ووٹ کی کامیابی کی صورت میں یو کے'انڈیپینڈنٹ' ہو گیا تو 'پارٹی' اپنا سیاسی جواز کھو بیٹھی۔ اس ساری کامیابی کا کریڈٹ ٹوری قیادت کو گیا اور اسی کی بنیاد پر وزیر اعظم ٹریسا مے زبردست انتخابی کامیابی کی توقع کر رہی ہیں۔

موجودہ عام انتخابات سے پہلے اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھنے کی آخری کوشش کے طور پر یوکِپ نے 'انٹیگریشن' یا یوں سمجھ لیجیے کہ تمام کمیونیٹیز کے انضمام کا نعرہ لگایا ہے۔

اس سلسلے میں پارٹی نے عام مقامات پر حجاب کی پابندی، اسلامی شرعی عدالتوں پر پابندی اور مزید اسلامی سکول کھولنے پر پابندی جیسے متنازع امور کو اپنے انتخابی منشور کا حصہ بنایا ہے لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ برطانوی عوام کو پارٹی کے ان انتخابی وعدوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور اس کا واضح ثبوت بلدیاتی انتخابات میں یوکپ کی کارکردگی ہے، جس میں ایک کو چھوڑ کر تمام 146 یوکپ کونسلر ہار گئے ہیں۔ کیونکہ یہ انتخابات انگلینڈ اور ویلز کی تمام کونسلوں میں نہیں ہو رہے تھے اس لیے ابھی بھی کچھ بلدیاتی اداروں میں یوکپ کونسلر موجود رہیں گے لیکن موجودہ انتخابی نتائج نے پارٹی کے مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

گذشتہ ہفتے کے بلدیاتی انتخابات میں کچھ دلچسپ چیزیں سامنے آئیں۔ جہاں ملک بھر سے کنزرویٹو پارٹی کے امیدوار زبردست انتخابی کامیابیاں حاصل کر رہے تھے وہیں نارتھمبرلینڈ کونسل کے ایک وارڈ میں قسمت کی دیوی ٹوری پارٹی اور اس کے ایک امیدوار سے روٹھی روٹھی دکھائی دی۔ یہاں پارٹی کے 33 امیدوار کامیابی حاصل کر چکے تھے اور اس کو کونسل کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے صرف مزید ایک کامیابی کی ضرورت تھی۔

ساؤتھ بلائتھ وارڈ میں لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کی امیدوار لیزلی اکربری اور ٹوری پارٹی کے ڈینیل کار کے ووٹ تین بار گِنے جا چکے تھے لیکن فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا کیونکہ دونوں کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد برابر تھی۔ پہلی گنتی میں ٹوری امیدوار ایک ووٹ سے آگے تھے، ان کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد 356 جب کہ ان کے مدِمقابل امیدوار نے 355 ووٹ حاصل کیے تھے۔ اس پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہوئی اور تعداد برابر نکلی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption ربش پارٹی کی امیدروار سیلی کوگلی

تیسری گنتی پر بھی ووٹ برابر نکلے۔ اس پر ریٹرننگ آفیسر نے دونوں امیدواروں کی رضا مندی سے فیصلہ کیا کہ مزید گنتی کی بجائے فیصلہ قسمت پر چھوڑ دیا جائے۔ ایسی صورتِ حال میں عام طور پر تین طریقے رائج ہیں، یا تو امیدواروں کے درمیان فیصلہ سکا اچھال کر کیا جاتا ہے یا پھر دونوں کے نام کاغذ پر لکھ کر ایک ہیٹ میں ڈالے جاتے ہیں۔ یہاں کے ریٹرننگ آفیسر نے ان دونوں کی بجائے ایک تیسرا طریقہ اختیار کیا اور فیصلہ بوتل پینے والے پائپ یا سٹرا سے کیا گیا۔ اس طریقے میں ایک سٹرا کو دو مختلف لمبائیوں میں کاٹ لیا جاتا ہے اور ایک امیدوار سے کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ٹکڑا کھینچ لے اور اگر اس کا کھینچا گیا سٹرا لمبا ہو تو وہ جیت جاتا ہے۔

ساؤتھ بلائتھ میں لِب ڈیم کی امیدوار لیزلی اکربری نے جو سٹرا کھینچا وہ بڑا تھا اس لیے ان کو کامیاب قرار دیا گیا۔ اگر ڈینیئل کار یہ نشست جیت لیتے تو ٹوری پارٹی ایک ووٹ سے کونسل کا کنٹرول حاصل کر سکتی تھی۔

ان انتخابات میں دوسری باتوں کے علاوہ سکاٹ لینڈ سے ایک نئی پارٹی کا ظہور ہوا۔ اس پارٹی کا نام ہے کوڑا یا ربش پارٹی جس کی واحد امیدوار سیلی کوگلی نے ایسٹ ایرشائر کونسل کے اِرون ویلے کے وارڈ میں کامیابی حاصل کی۔

پارٹی نے یہ الیکشن سنگل پوائنٹ ایجنڈے پر لڑا کہ وہ اِرون ویلے میں کوڑا اٹھانے کے کام میں بہتری لائے گی۔ اس کا انتخابی تعرہ تھا 'ووٹ فار سیلی فاربیٹر ویلی' (وادی کی بہتری کے لیے سیلی کو ووٹ دیں)

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں