فرانس میں ’پرعزم شخص سرگرمِ عمل‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نو منتخب صدر امینیول میکخواں نے 39 سال کی کم عمر میں فرانس کی سیاست کو ایک منجھے ہوئے سیاستدان کی مانند ہلا کر رکھ دیا ہے۔

٭فرانس میں صدارتی انتخابات: ’میکخواں کی لاپین کو شکست‘

تین مئی کو ایک تند و تیز ٹی وی مباحثے میں انھوں نے کہا کہ وہ اپنی نیشنلسٹ حریف لا پین کی طرح بھرپور طریقے سے اشتعال انگیزی دکھا سکتے ہیں۔

انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے میکخواں نے کہا تھا کہ ’میرا مقصد دائیں اور بائیں کو اکھٹا کرنا نہیں تھا مگر میں فرانسیسی عوام کو متحد کرنا چاہتا تھا۔'

چار سال تک تجارت سے وابستہ رہنے کے بعد انھوں نے سوشلسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر فرانسوا اولاند کی حکومت میں شمولیت اختیار کی تھی۔

حالیہ انتخاب میں ان کی حریف میری لا پین نے، جو کہ روایتی دائیں بازو کی سیاستدان ہیں، میکخواں کو اُمرا کا نمائندہ قرار دیا اور کہا کہ ان کا ایجنڈا جھوٹا ہے۔ بہت سے لوگوں نے انھیں طنزاً 'ٹونی بلیئر کی کاپی پیسٹ' کہا۔

لیکن میکخواں نے دہائیوں تک سیاست پر اجارہ داری رکھنے والی سوشلسٹ اور ریپبلکن جماعتوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

انھوں نے یورپی یونین میں اتحاد کے لیے بہت سے ووٹرز کی مخالفت کے باوجود اس کا دفاع کیا۔

ان کا موقف ہے کہ فرانس کی معیشت کی بہتری کے لیے یورپی یونین کی منڈیاں بہت اہم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ابتدا میں انھوں نے صدر کے معاشی معاون کے طور پر کام کیا اور پھر سنہ 2014 میں وہ ملک کے وزیرِ خزانہ بنے۔

'میکرون لا' کے ذریعے انھوں نے کچھ اصلاحات متعارف کروائیں جن میں اتوار کو بھی دکانوں کو زیادہ دیر کھلا رکھنے کی اجازت دی اور انڈسٹری کے کچھ شعبوں کو پابندیوں سے آزاد کیا۔ فرانس کے تجارتی طبقے کے لیے وہ تازہ ہوا کا جھونکا تھے۔

لیکن سیاست میں وہ ابھی تک نئے ہیں۔ اس سے قبل وہ کبھی بھی کسی عہدے پر منتخب نہیں ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

وہ فرانس کے شمالی شہر امیاں میں پیدا ہوئے اور انھوں نے معروف تعلیمی ادارے ہینری فور پبلک سکینڈری سکول سے تعلیم حاصل کی۔

ان کے والدین دونوں ڈاکٹر تھے۔ میکخواں نے یونیورسٹی آف پیری ویسٹنانتیر سے فلسفہ پڑھا اور پوسٹ گریجوایشن پیرس کے ممتاز ادارے سائینس بو سے کی۔

سنہ 2006 میں صدر فرانسوا اولاند سے اپنی پہلی ملاقات کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سنہ 2007 میں انھوں نے اپنی ایک ٹیچر بغیزیت تونیو سے شادی کی جو ان سے عمر میں 20 سال بڑی ہیں۔

اپریل سنہ 2016 میں جب انھوں نے اپنی تحریک ایم مارشے کا آغاز کیا تو حکومت میں ان کی پوزیشن ناموزوں ہو گئی۔

اس موقعے پر صدر فرانسوا اولاند نے بھی ان سے کہا کہ 'اگر تم قوانین کا لحاظ نہیں کرو گے تو تم باہر ہو۔'

لیبر یونین سی جی ٹی کی جانب سے جون میں ہونے والے احتجاج کے دو ماہ بعد میکخواں نے استعفیٰ دے دیا اور صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے تیاریاں شروع کر دیں۔

اسی بارے میں