شمالی کوریا: ریاست مخالف کارروائیوں کے شک میں امریکی شہری زیرِ حراست

تصویر کے کاپی رائٹ PUST
Image caption اطلاعات کے مطابق کم ہک سونگ پیانگ یانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا ملازم تھا

شمالی کوریا میں حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’ریاست کے خلاف کارروائی‘ کے شک میں ایک امریکی شہری کو حراست میں لے لیا ہے۔

ریاستی خبر رساں ادارے کے سی این اے کا کہنا تھا کہ کم ہک سونگ نامی یہ شخص پیانگ یانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں کام کرتا تھا اور اسے 6 مئی کو حراست میں لیا گیا۔

ان کے علاوہ شمالی کوریا میں تین اور امریکی شہری زیرِ حراست ہیں۔

ماضی میں امریکہ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا اس کے شہریوں کو گرفتار کر کے بطور پیادا استعمال کرتا ہے۔

کے سی این اے کا کہنا ہے کہ ’ایک متعلقہ ادارہ‘ کم ہک سونگ کے مبینہ جرائم کی تفصیلی تفتیش کر رہا ہے۔

تفتیش کے بارے میں کوئی اور تفصیلات نہیں جاری کی گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک اور امریکی شہری کم دونگ چل کو دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی

امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انھیں امریکی شہری کی شمالی کوریا میں حراست کے بارے میں علم ہے اور وہ پیانگ یانگ میں سوئڈن کے سفارتخانے سے اس حوالے سے رابطہ کریں گے۔ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور شمالی کوریا میں امریکی شہریوں کو سوئڈن کا سفارتخانہ مدد فراہم کرتا ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو مشکل وقت سے اچھی طرح نمٹنے والا 'ہوشیار' رہنما قرار دیا تھا۔

امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ کم جونگ نے کم عمری میں اقتدار سنبھالا اور وہ بھی تب جب انھیں 'کچھ انتہائی سخت لوگوں سے نمٹنا' پڑا۔

شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے دوران ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں نہیں معلوم کہ کم جونگ ان ذہنی طور پر صحت مند ہیں یا نہیں۔

اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما نے اقتدار میں آنے کے دو سال بعد اپنے چچا کو مروا دیا تھا اور شک کیا جاتا ہے کہ حال ہی میں اپنے سوتیلے بھائی کو قتل کرنے کا حکم بھی انھوں نے ہی دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جنوری 2016 میں ایک اور امریکی شہری اوٹو واربیئر کو گرفتار کیا گیا

ڈونلڈ ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ وہ شمالی کوریا کے رہنما کے بارے میں کیا سوچتے ہیں تو ان کا جواب تھا: 'لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا وہ ذہنی طور پر ٹھیک ہیں؟ مجھے نہیں پتہ، لیکن وہ 26 یا 27 برس کے نوجوان تھے جب ان کے والد کا انتقال ہوا، ظاہر ہے کہ وہ بہت سخت لوگوں کا سامنا کر رہے ہیں، خاص طور سے جرنیلوں اور دوسرے لوگوں کا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں