آسٹریلیا میں 'ہر پانچواں شخص انتقامی پورن کا نشانہ بنتا ہے‘

انتقامی پورن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سروے کے نتائج میں انتقامی پورن کے مرتکبین میں مردوں کی زیادہ تعداد ہونے کی بات کہی گئی ہے

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آسٹریلیا میں ہر پانچواں شخص 'انتقامی پورن' کا نشانہ بنتا ہے۔

قومی سطح پر کیے جانے والے ایک سروے میں 4200 افراد کو شامل کیا گیا تھا جس میں یہ معلوم ہوا کہ خواتین اور مرد دونوں ہی یکساں طور پر 'انتقامی پورن' کا شکار ہیں۔

آسٹریلیا میں اس موضوع پر کیے جانے والے اس پہلے جامع سروے میں پایا گیا کہ انتقامی کارروائی کے مرتکبین میں مردوں کی شمولیت کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں جبکہ خواتین کو حفاظت کے متعلق زیادہ خدشات تھے۔

٭ فیس بک انتقامی پورن کو دوبارہ پوسٹ کرنے سے روکے گا

٭ انٹرنیٹ، خواتین اور بلیک میلنگ

محققین کا کہنا ہے کہ اس سروے کے نتائج میں یہ پایا گیا کہ 'انتقامی پورن' کے شکار لوگوں کی تعداد اندازے سے کہیں زیادہ ہے۔

آر ایم آئی ٹی اور موناش یونیورسٹی کے سروے میں حصہ لینے والے 20 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کی مرضی کے بغیر ان کی جنسی نوعیت کی یا برہنہ تصویر کھینچی گئی۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 11 فیصد افراد کی تصاویر ان کی مرضی کے بغیر شیئر کی گئی جبکہ نو فیصد افراد کو یہ دھمکی دی گئی کہ ان کی تصویر کو سیئر کر دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ URBAN DICTIONARY
Image caption انتقامی پورن کا ذکر پہلی بار فلموں میں نظر آيا پھر چند برس قبل فیس بک کے اقدامات سے اس پر سنجیدگی سے توجہ دی گئی

اقلیتی برادریوں بشمول دیسی اقلیتوں، معذوروں اور ہم جنس پرستوں کے انتقامی پورن کا شکار ہونے کے زیادہ خطرات ہیں۔

تحقیق کرنے والوں نے تصاویر پر مبنی جنسی استحصال کو وفاقی سطح پر جرم قرار دینے کی تجویز دی ہے۔ انھوں نے برطانیہ کی طرز پر اس بابت ایک ہیلپ لائن بنانے کی بھی تجویز دی ہے۔

اس سروے کے محققین کے سربراہ ڈاکٹر نکولا ہنری نے کہا کہ 'تصاویر پر مبنی ناجائز چیزیں ایک مسئلے کے طور پر اس قدر تیزی سے ابھری ہیں کہ ہمارے قانون اور پالیسیوں کو ناگزیر طور پر اس سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔‘

'یہ صرف انتقامی پورن کی بات نہیں۔ لوگوں کو قابو میں کرنے، ان کا استحصال اور ان کی تذلیل کرنے کے لیے تصاویر کا استعمال ہو رہا ہے اور یہ بات صرف رشتوں کے تلخ ہو جانے کے دائرے سے باہر چلا جاتا ہے۔'

آسٹریلیا میں صرف وکٹوریا اور جنوبی آسٹریلیا ہی ایسے صوبے ہیں جہاں بغیر رضامندی کے تصاویر مشترک کرنے کے متعلق مخصوص قوانین ہیں۔

اسی بارے میں