لاطینی امریکہ کی زندگی پر ایک نظر

میریڈتھ کوہٹ 2007 سے لاطینی امریکہ کی عام زندگی پر کام کر رہی ہیں۔ کوہٹ کو حال ہی میں 2017 کا سالانہ گیٹی امیجز اور کرس ہونڈروس فنڈ ایوارڈ ملا ہے۔

ہونڈروس فنڈ ایوارڈ فوٹو جرنلسٹ کرس ہونڈورس کے اعزاز میں دیا جاتا ہے جو 20 اپریل 2011 میں لیبیا کے شہر مصراتہ میں کام کرتے ہوئے ہلاک کر دیے گئے تھے۔

میریڈتھ کا کہنا ہے کہ ’دی کرس ہونڈورس فنڈ کی جانب سے میرے کام کو سراہا جانا میرے لیے انتہائی اعزاز کی بات ہے۔‘

وینزویلا میں ہوگو شاویز کے سوشلسٹ انقلاب کے عروج و زوال سے ال سلواڈور میں جیلوں کے کھچا کھچ بھرنے تک میریڈتھ کوہٹ کی تصاویر میں لاطینی امریکہ کی کئی کہانیاں دکھائی دیتی ہیں۔

ان کے کام میں سے بعض منتخب تصاویر

A Venezuelan patient in a mental hospital تصویر کے کاپی رائٹ Meridith Kohut

یہ تصویر وینزویلا کے شہر بارکیسیمتو میں ال سائکیٹرک ہسپتال میں لی گئی ہے، جس میں غذائی کمی کے شکار مریض عمر مینڈوزا کو دکھایا گیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کے دوران کوہٹ کو عمر ملے۔ شکٹزوفرینیا کے دوران ہونے والی تکلیف کو دور کرنے والی ادویات بہت ہی کم ہیں۔ اور اس دوران خوراک بھی انتہائی کم ہو جاتی ہے۔

An older woman lights a candle تصویر کے کاپی رائٹ Meridith Kohut/Bloomberg via Getty Images

54 سالہ نادیہ روڈریگز وینز ویلا میں ماراکائی کی رہائشی ہیں۔

مارچ 2016 میں بنائی گئی اس تصویر میں انھیں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے شمع روشن کرتے ہوئے دکھا جا سکتا ہے۔ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے ڈیموں میں پانی کی کمی کے باعث توانائی پیدا کرنے میں مشکلات ہو رہی تھیں۔

Three sisters sit on their bed تصویر کے کاپی رائٹ Meridith Kohut/Bloomberg via Getty Images

وینزویلا میں اویلا ماؤنٹین میں کلیبریلا میں نیٹالی نیوروکا اور ایڈتھ اپنے گھر میں ایک بیڈ پر بیٹھی ہیں جو دھاتی چادر سے بنا ہے۔

کوہٹ نے وینزویلا میں بڑھتی ہوئی غربت، خوراک کی قلت اور مظاہروں کو تصویری شکل میں جمع کیا۔

Protesters in Venezuela تصویر کے کاپی رائٹ Meridith Kohut

سابق صدر ہوگو شاویز اور ان کے بعد آنے والے نکولس مادورو کی سوشلسٹ پالیسی کے حامیوں اور ان کے مخالفین کے درمیان جھڑپوں کے باعث وینزویلا بھر میں شدید تناؤ کی فضا رہی۔

اس تصویر میں مظاہرین کے حکومت پر عدم اطمینان کو توجہ دلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ مظاہرین پتھر اور پیٹرول بم پھینک رہے ہیں جبکہ جواب میں پولیس نے ان پر آنسو گیس کا استعمال کیا۔

Boys jump into the sea تصویر کے کاپی رائٹ Meridith Kohut/Bloomberg via Getty Images

وینزویلا میں پورٹ پوئٹرو کبیلو پر لڑکے پانی میں چھلانگ لگانے کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں برازیل کی گوشت کی کمپنی سرکاری طور پر سستے داموں گوشت وینزویلا میں لاتی ہے۔

بلومزبرگ میں میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں اس تصویر کے ہمراہ لکھا گیا تھا کہ یہ گوشت اکثر اوقات سرکاری دوکانوں میں لے جایا جاتا ہے جہاں بلوے یا حکومت مخالف مہم کا خطرہ رہتا ہے۔

A small clinic in Rendel, Haiti overflowing with Cholera patients تصویر کے کاپی رائٹ Meridith Kohut

ایک اور منصوبے پر کام کرنے کے لیے کوہٹ کو تقریباً پانچ گھنٹوں تک ٹریکنگ کرنا پڑی تاکہ وہ ہیٹی میں جنوبی جزیرے پر رینڈل کے دور دراز قصبے تک پہنچ سکیں۔

اس قصبے کے لوگوں کو طوفان میتھیو کے باعث ہونے والی تباہی کے بعد ہیضے کی وبا پھیلنے سے شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ اس تصویر میں انھوں نے پرہجوم طبی مرکز میں مریضوں کی حالت زار کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

Two brothers sit at their kitchen table تصویر کے کاپی رائٹ Meridith Kohut/Bloomberg via Getty Images

پیرو میں لا اورویا نامی قصبے میں کینیا بارجا اپنے بھائی کے ہمراہ ناشتہ کر رہے ہیں۔

میریڈتھ کوہٹ نے پیرو کی حکومت اور رینکو گروپ اینک کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے نتیجے میں ہونے والے شہریوں کے جانی نقصان کو تصویری شکل میں جمع کرنے کی کوشش کی۔

ان جھڑپوں کی وجہ کمپنی پر سیسے کی مقدار میں اضافے اور اس کے باعث بچوں میں پھیلنے والی بیماری کا الزام تھا۔

A child lies in a hammock تصویر کے کاپی رائٹ Meridith Kohut/Bloomberg via Getty Images

ایکواڈور میں 16 اپریل 2016 میں سات عشاریہ آٹھ شدت کا زلزلہ آیا۔

اس تصویر میں زلزلے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے بعد ملبے کے درمیان ایک بچہ عارضی جھولے میں سے باہر دیکھ رہا ہے۔

یہ زلزلہ 1979 کے بعد ایکواڈور میں آنے والا سب سے شدید زلزلہ تھا، جس کے نتیجے میں 272 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔

تمام تصاویر میریڈتھ کوہٹ کی بنائی ہوئی ہیں۔