دنیا کے سب سے کم عمر حکمران کون؟

میکخواں تصویر کے کاپی رائٹ AFP

39 سالہ امینیوئل میکخواں فرانس کی تاریخ کے سب سے کم عمر صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ ان کے انتخاب نے لوئی نپولین بوناپارٹ کا 170 سالہ پرانا ریکارڈ توڑ دیا ہے جو 1848 میں 40 برس کی عمر میں صدر منتخب ہوئے تھے۔

فرانس کی آبادی کی اوسط عمر 41 برس ہے، سو میکخواں اس سے بھی دو برس چھوٹے ہیں۔

تاہم دنیا کے دوسرے ملکوں میں میکخواں سے بھی کم عمر رہنما برسرِ اقتدار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 38 سالہ راتاس ایسٹونیا کی روسی بولنے والی آبادی میں خاصے مقبول ہیں

جوری ریتاس، ایسٹونیا

سابقہ سوویت یونین کا حصہ جمہوریہ ایسٹونیا نے جب 2016 میں ایک مخلوط حکومت منتخب کی تو جوری ریتاس اس کے وزیرِ اعظم بن گئے۔

38 سالہ راتاس اس بلقانی ریاست کی روسی بولنے والی آبادی میں خاصے مقبول ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یوکرین میں 38 سالہ وولودی میر گروئسمان وزیرِ اعظم ہیں، تاہم اصل اقتدار دراصل صدر پیترو پوروشنکو کے ہاتھوں میں ہے

وولودی میر گروئسمان، یوکرین

ایک اور سابق روسی ریاست بلقان میں ایک اور 38 سالہ وزیرِ اعظم وولودی میر گروئسمان حکمران ہیں۔

تاہم یورپ کے اس دوسرے سب سے بڑے ملک میں اصل اقتدار دراصل صدر پیترو پوروشنکو کے ہاتھوں میں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 34 سالہ کم جونگ ان 2012 سے شمالی کوریا پر حکومت کر رہے ہیں

کم جونگ ان، شمالی کوریا

شمالی کوریا کے حکمران کم جونگ ان کچھ زیادہ مقبول رہنما نہ سہی، لیکن وہ اس وقت دنیا کے دوسرے کم عمر ترین سربراہ ہیں۔

ان کی عمر صرف 34 برس ہے۔

وہ 2012 سے اقتدار میں ہیں، اور جوہری ہتھیاروں اور دور مار میزائل پروگرام کی تیاری کی نگرانی کر رہے ہیں۔

Image caption 33 ہزار آبادی کے ملک سان مرینو کی وینیسا ڈی امبروسیو دنیا کی کم عمر ترین حکمران ہیں

وینیسا ڈی امبروسیو، سان مرینو

اس وقت دنیا کی کم عمر ترین سربراہِ مملکت کا سہرہ ایک بےحد چھوٹے ملک سان مرینو کی حکمران وینیسا ڈی امبروسیو کے سر سجتا ہے۔

ان کی عمر صرف 29 سال ہے۔

سان مرینو چاروں طرف سے اٹلی میں گھرا ہوا ہے اور اس کی آبادی صرف 33 ہزار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھوٹان کے اصلاح پسند بادشاہ جگمے ملک کے ثقافتی ورثے کو تحفظ دینا چاہتے ہیں

جگمے کھیسار نامگیل وانچک، بھوٹان

اگر اس فہرست میں غیر منتخب شدہ بادشاہوں کو بھی شامل کیا جائے تو پھر بھوٹان کے شاہ جگمے کھیسار نامگیل وانچک بھی اس کا حصہ بن جائیں گے جن کی عمر 37 برس ہے۔

عوام میں بےحد مقبول جگمے 2006 سے ملک کے شہنشاہ ہیں، اور وہ اس ہمالیائی ریاست کے ماحول اور ثقافت کو نقصان پہنچائے بغیر ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں۔

وہ شنہاہیت کے خاتمے اور آئینی حکومت کے نفاذ کے بھی خواہاں ہیں۔

Image caption شیخ تمیم الثانی کی قیادت میں قطر میں 2022 کا فٹبال ورلڈ کپ منعقد ہونے جا رہا ہے

شیخ تمیم بن حماد الثانی، قطر

ایک اور شاہی حکمران شیخ تمیم ہیں جنھوں نے اپنے والد سے قطر کی امارت سنبھالی تھی۔

36 سالہ شیخ تمیم نے برطانیہ کی مشہورِ زمانہ سینڈہرسٹ فوجی اکیڈمی سے تربیت حاصل کی ہے اور وہ ملک کی فوج کے ڈپٹی کمانڈر بھی ہیں۔

انھیں کی قیادت میں قطر میں 2022 میں فٹبال کے ورلڈ کپ کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔

قطر کا شمار اس وقت خلیج کے مالدار ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔

معمر ترین رہنما

کم عمر رہنماؤں کا تو ذکر ہو گیا، دنیا کے سب سے معمر رہنما کون ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 93 سالہ موگابے کہتے ہیں کہ جب تک عوام چاہیں، تب تک میں صدر رہوں گا

زمبابوے کے رابرٹ موگابے دنیا کے سب سے معمر حکمران ہیں۔ ان کی عمر 93 برس ہے۔

وہ 1980 سے اقتدار میں ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک صدر رہیں گے جب تک ملک کے عوام انھیں صدر دیکھنا چاہیں گے۔

تاہم ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ان کے طویل اقتدار کا راز سیاسی مخالفین کا استحصال اور انتخابات میں دھاندلی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں