'اوباما نے ٹرمپ کو فلِن کے بارے میں خبردار کیا تھا'

مائیکل فلن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اوباما انتظامیہ نے فلن کو ڈیفینس انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کے عہدے سے 2014 میں برطرف کر دیا تھا

وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ سابق امریکی صدر براک اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ مائیکل فلِن کو قومی سلامتی کا مشیر نہ بنایا جائے۔

اوباما انتظامیہ کے ایک سابق اہلکار نے کہا ہے کہ صدر اوباما نے اپنے جانشین ٹرمپ کو نومبر میں امریکی صدر منتخب ہونے کے 48 گھنٹے کے اندر اندر وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ملاقات کے دوران اس بارے میں خبردار کیا تھا۔

امریکی سینیٹ کے ایک پینل کو پیر کو بتایا گیا کہ فلن کے روسی سفیر سے رابطوں کی وجہ سے وہ بلیک میل کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

٭ مائیکل فلن استثنیٰ کے عوض گواہی دینے کو راضی

٭’ٹرمپ کو جنرل فلن کے معاملے کا کئی ہفتوں سے پت

مائیکل فلن کو فروری میں انھی روابط کی پاداش میں برخاست کر دیا گیا تھا۔

فلن ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ہیں اور انھوں نے روسی سفیر کے ساتھ روس پر عائد امریکی پابندیوں کا معاملہ اٹھانے کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ سے غلط بیانی سے کام لیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری شان سپائسر نے پیر کو ایک بریفنگ کے دوران بتایا: 'یہ بات درست ہے کہ صدر اوباما نے واضح کر دیا تھا کہ وہ جنرل فلِن کے مداح نہیں ہیں۔'

تاہم سپائسر نے کہا کہ ’یہ بات حیرت انگیز نہیں ہے کیوں کہ جنرل فلن نے اوباما کے ساتھ کام کیا تھا اور وہ صدر اوباما کی خامیوں پر کھلم کھلا تنقید کیا کرتے تھے، خاص طور پر امریکہ کو درپیش دولتِ اسلامیہ اور دوسرے خطروں کے بارے میں۔'

اوباما انتظامیہ نے فلن کو ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کے عہدے سے 2014 میں برطرف کر دیا تھا اور اس کی وجہ بدانتظامی اور ان کا مزاج بتایا تھا۔

اوباما انتظامیہ کے ایک سابق اہلکار نے امریکی چینل این بی سی نیوز کو بتایا کہ صدر اوباما نے ٹرمپ کو فلن کے بارے اس وقت خبردار کیا تھا جب فلن کی روسی سفیر سے ملاقات کی خبر پر تشویش ابھی سامنے نہیں آئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق اوباما کا خیال تھا کہ فلن اس قدر اعلیٰ عہدے کے اہل نہیں ہیں۔

یہ انکشاف اس وقت ہوا جب سابق نگران اٹارنی جنرل سیلی ییٹس نے سینیٹ کے ایک پینل کو فلن کے روسی سفیر کے ساتھ رابطے کے بارے میں آگاہ کیا۔

ییٹس نے کہا کہ انھوں نے 26 جنوری کو وائٹ ہاؤس کے کاؤنسل ڈان میکگان کو فلن کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے روسی سفیر کے ساتھ روابط کے بارے میں فلن کے بیانات دیکھے تھے جو 'ہم جانتے ہیں کہ حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔'

ییٹس نے کہا کہ فلن نے امریکی نائب صدر سے 'جھوٹ' بولا تھا اور روسی یہ بات جانتے تھے۔ 'اس سے وہ صورتِ حال پیدا ہو گئی تھی کہ قومی سلامتی کے مشیر کو روسی بلیک میل کر سکتے تھے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر ٹرمپ نے جنوری میں ییٹس کو برخاست کر دیا تھا کیوں کہ انھوں نے انتظامیہ کی جانب سے سفری پابندیوں کے حکم نامے پر عمل درآمد کرنے سے انکار کر دیا تھا

فلن کے روس کے ساتھ روابط کے بارے میں امریکی تفتیشی ادارہ ایف بی آئی اور ہاؤس اور سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹیاں تحقیقات کر رہے ہیں۔ وہ اس بارے میں چھان بین کر رہے ہیں کہ آیا روس نے امریکی انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی تھی۔

صدر ٹرمپ نے جنوری میں ییٹس کو برخاست کر دیا تھا کیوں کہ انھوں نے انتظامیہ کی جانب سے سفری پابندیوں کے حکم نامے پر عمل درآمد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

دوسری طرف پیر کو صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر ییٹس پر الزام لگایا ہے کہ وہ انھوں نے خفیہ معلومات افشا کی ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اوباما انتظامیہ نے فلن کو اعلیٰ ترین سکیورٹی کلیئرنس دے رکھی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں