توہین مذہب کے مقدمے میں جکارتہ کے گورنر کو دو برس کی قید

پرناما تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے گورنر بسوکی تجھاجہ پرنام کو ایک متنازع مقدمے میں توہین مذہب کا الزام ثابت ہونے پر دو برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

'آہوک' کے نام سے مشہور گورنر پرناما پر گورنر کے انتخابات کی مہم کے دوران قرآن کی توہین کرنے کا الزام تھا۔

٭ توہین مذہب کے مقدمے میں جکارتہ کے گورنر کا نام شامل

* مسلم دنیا میں توہینِ مذہب کے قوانین

سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت میں گورنر پرناما کو توہین مذہب اور تشدد کو ہوا دینے کے الزام میں دو برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

مقدمے کی سماعت کے موقع پر ان کے حمایت اور مخالفت میں بڑی تعداد میں لوگ عدالت کے باہر جمع تھے۔

حکام نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے تھے اور عدالت کے باہر فوج اور پولیس کے پندرہ ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔

بلوا پولیس اور بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے گورنر کے حامیوں اور مخالفین کو ایک دوسرے سے دور رکھا گیا۔

پرناما عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور گذشتہ 50 سالوں میں جکارتہ کے پہلے غیر مسلم گورنر ہیں اور وہ اصلاحاتی پالیسیوں اور بدعنوانی کے خلاف اپنے سخت موقف کے باعث کافی شہرت رکھتے ہیں۔

سخت گیر مسلمانوں نے پرناما کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے ان پر مستعفی ہونے کا دباؤ ڈال رہے تھے۔

اس کے بعد نومبر 2016 میں پولیس نے گورنر بسوکی تجھاجہ پرناما کو توہین مذہب کی تحقیقات میں مشتبہ قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس بسوکی پرناما نے ایک متنازع بیان میں کہا تھا کہ مسلمان ایک قرآنی آیت کا استعمال کر کے انھیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں تاہم بعد میں انھوں اپنے اس بیان پر معذرت کر لی تھی۔

اسی بارے میں