’افغانستان کے لیے تین ہزار اضافی امریکی فوجی کی تعیناتی کی سفارش‘

امریکی فوجی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی فوجی حکام اور محکمۂ خارجہ نے طالبان کے خلاف کارروائیوں کے لیے کم از کم تین ہزار اضافی فوجی افغانستان بھیجنے کی سفارش کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ان تجاویز کے تحت فوجی کمانڈرز کو طالبان کے خلاف فضائی کارروائیوں کا اختیار بھی دوبارہ حاصل ہو جائے گا۔

٭ افغانستان میں طالبان کا قندوز پر ایک بار پھر حملہ

٭ افغان طالبان کا ’آپریشن منصوری‘ کے آغاز کا اعلان

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام نے بتایا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ابھی تک اس منصوبے کی منظوری نہیں دی ہے جبکہ ان تجاویز میں یہ درخواست بھی شامل کی جا سکتی ہے کہ نیٹو ممالک بھی تین سے پانچ ہزار فوجی افغانستان بھیجیں۔

اس وقت افغانستان میں نیٹو کے 13 ہزار فوجی اہلکار اور امریکہ کے آٹھ ہزار چار سو فوجی اہلکار تعینات ہیں۔

افغانستان میں طالبان کے خلاف امریکہ کا جنگی مشن 2014 میں ختم ہوگیا تھا تاہم افغان فوجیوں کی تربیت اور مدد کے لیے وہاں امریکی فوج کے خصوصی دستوں کے اہلکار تعینات ہیں۔

رواں برس فروری میں افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے سینیٹ کی کمیٹی کو افغانستان میں فوج کی صورتحال پر بتایا تھا کہ انھیں 'چند ہزار فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے' اور انھیں تعطل ختم کے لیے مزید فوجیوں کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ امریکی حکام کی جانب سے افغانستان میں فوجیوں کی تعداد میں اضافے کی سفارشات ایک ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب گذشتہ ماہ طالبان نے ایک فوجی اڈے پر حملے کر کے 135 افغان فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔

اس کارروائی کے ایک ہفتے بعد طالبان نے 'موسم بہار' کی کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

طالبان کی جانب سے ان کارروائیوں کو گذشتہ برس امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے والے طالبان رہنما ملا منصوری کی نسبت سے 'آپریشن منصوری' کا نام دیا گیا ہے۔

اس کے بعد گذشتہ ہفتے کو طالبان نے قندوز شہر سے کچھ فاصلے پر واقع ضلعے قلعہ ذال پر قبضہ کر لیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں