جکارتہ کے گورنر بسوکی تجھاجہ ہیں کون؟

انڈونیشیا تصویر کے کاپی رائٹ BAY ISMOYO/AFP/GETTY IMAGES

بسوکی تجھاجہ پرناما جو کہ اپنے چینی نام ’آہوک‘ سے جانے جاتے ہیں 2014 میں جوکو ’جوکووی‘ وڈوڈو سے اقتدار لینے کے بعد گذشتہ 50 سالوں میں انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے پہلے غیر مسلم گورنر بنے تھے۔

بسوکی تجھاجہ پرناما گورنر کا عہدہ سنبھالنے والے پہلے چینی نژاد انڈونیشئن ہیں اور ان کا ایک ایسے شہر کا انتظام سنبھالنا بہت اہم بات تھی جہاں 1998 میں چین مخالف خیالات کے باعث مشتعل ہجوم نے چینیوں کی دکانوں اور مکانات کو لوٹ مار کے بعد نذر آتش کر دیا تھا۔

جکارتہ کے گورنر توہین مذہب کے مقدمے میں قصوروار

مسلم دنیا میں توہینِ مذہب کے قوانین

آہوک اس سے قبل جوکووی کے نائب رہ چکے ہیں۔

تاہم اپریل 2017 میں وہ توہین مذہب کے سکینڈل کے باعث انتخاب ہار گئے اور مئی میں انھیں مجرم قرار دیا گیا اور انھیں توہین مذہب اور فساد پھیلانے کے جرم میں دو سال جیل کی سزا دی گئی۔

’اسلام کا مذاق اڑانا‘

'آہوک' کے نام سے مشہور گورنر پرناما پر انتخابی مہم کے دوران قرآن کی سورت المائدہ کی آیات کی توہین کرنے کا الزام تھا۔ پرناما کے مخالفین ان آیات کا سہارا لے کر مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ وہ غیر مسلم رہنماؤں کو ووٹ نہ دیں۔

بسوکی تجھاجہ پرناما نے کئی بار توہین مذہب کے الزام کو مسترد کیا اور کہا کہ ان کے سیاسی مخالفین نے ان کے خلاف قرآن کا استمعال کرکے ان کے بیان کو ’غلط‘ انداز میں پیش کیا۔

اس سارے معاملے سے قبل بسوکی تجھاجہ پرناما کو ایک صاف بات کرنے والے سیاست دان اور کرپشن کے خلاف سخت موقف رکھنے والے کی حیثیت سے سراہا جاتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جکارتہ اور ان کے آبائی علاقے بیلیٹنگ میں بھی کم سے کم تنخواہ، مفت تعلیم اور ہیلتھ کیئر، ٹریفک کے نظام میں بہتری اور سرکاری حکام کے درمیان کرپشن کو روکنےکے حوالے سے ان کی پالیسیوں کی وجہ سے انھیں بہت شہرت ملی تھی۔

تاہم بعض اسلام پسندوں نے انھیں ان کے عیسائی مذہب اور چینی عقائد کی بنیادوں پر پہلے ہی ’کافر‘ قرار دے دیا تھا۔

وہ کہتے کیا ہیں

آہوک نے 2008 میں ایک کتاب شائع کی جس کا نام ’میروبا انڈونیشیا‘ (بدلتا انڈونیشیا) تھا جو ان کی سیاسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔

اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں: ’اگر آپ تنقید کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس حل ہونا چاہیے، تاکہ آپ ہمیشہ تبادلہ کرسکیں۔‘

اپنی دیانتداری اور شخصیت کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے رشوت دی جا سکتی ہے لیکن صرف آپ کی زندگی کی قیمت پر۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AHOK BASUKI TPURNAMA / TWITTER

دوسرے کیا کہتے ہیں

جنوری 2016 میں ایک ایوارڈ کی تقریب کے موقع پر سابق صدر گس در کے گھر والوں نے مسٹر پرناما کو ’نڈر اور پرعزم، گس در کی سوچ اور خیالات کے قریب قرار دیا۔‘

انھوں نے بدعنوانی کو ختم کرنے اور سرکاری اداروں کو بہتر بنانے کے لیے پرناما کی تعریف کی۔

لیکن گورنر کو بدنام کرنے والے کچھ زیادہ خوش نہیں تھے۔

شام میں لڑنے والے ایک انڈونیشئن گروپ جباہت الفتح ال شام کے جنگجوؤں کے حوالے سے شوشل میڈیا پر ایک پیغام آیا جس میں لکھا تھا: ’آپ آہوک کو سزائے موت دیں یا پھر ہم انھیں گولیوں سے سزائے موت دیں۔‘

جکارتہ میں زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کوششوں کی وجہ سے ان کی تمام تر شہرت اپریل میں متنازع سکینڈل کی نذر ہوگئی۔

اور وہ ایک مسلمان امیدوار انیس راشد بیسوادن سے انتخابات ہار گئے۔

اسی بارے میں