طبّی امداد فراہم کرنے والے نے اپنی جان کیسے بچائی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AMBULANCE VICTORIA

آسٹریلوی ریاست وکٹوریا میں طبّی امداد فراہم کرنے والے ایک اہلکار نے اپنے ہی آلات استعمال کرتے ہوئے پہلے تشخیص کی کے انھیں دل کا دورہ پڑا ہے اور پھر وہ خود ہی گاڑی چلا کر خود کو قریبی ہسپتال لے گئے۔

باون سالہ ڈیوڈ واٹسن نے 9نیوز کو بتایا کہ اتوار کے روز وہ کام پر تھے جب انھیں ’سینے میں شدید درد اور دونوں بازوؤں میں تکلیف محسوس ہوئی۔‘

ڈیوڈ واٹسن تیزی کے ساتھ اپنی ایمولینس میں پڑی ای سی جی مشین کے پاس گئے، جہاں تجزیہ کرنے پر انھیں معلوم ہوا کہ انھیں شدید دل کا دورہ پڑا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ’مجھے لگا، اوہ یہ صحیح نہیں ہے۔‘

ایمبولینس وکٹوریا پر ایک نیوز کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ’دل کے پٹھوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے میں نے خود کو ایمولینس میں پہنچایا اور ہسپتال لے گیا، وہاں میں نے بیل بجائی اور بتایا کے مجھے سینے میں درد محسوس ہو رہا ہے۔‘

ڈیوڈ واٹسن گذشتہ 25 سالوں سے بطور پیرامیڈکس ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں اور دو بچوں کے باپ بھی ہیں۔

بعد میں انھیں طیارے کے ذریعے جیلانگ ہسپتال لے جایا گیا جہاں لینڈنگ کے چند منٹ بعد ہی ان کا آپریشن کیا گیا۔

’میں سارا وقت جاگتا رہا، انھوں نے پہلے کلاٹ ہٹایا اور پھر سٹنٹ ڈالا۔ میں خوش قسمت ہوں جو زندہ ہوں کیونکہ میں نے یہ سب تیزی سے کیا اور خود ہی تشخیص بھی کی۔‘

ڈاکٹروں نے انھیں مکمل صحتیاب ہونے کے لیے دو ماہ چھٹی لینے کو کہا ہے۔

اسی بارے میں