امریکہ دولتِ اسلامیہ سے لڑنے کے لیے کردوں کو اسلحہ دے گا

کرد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption طبقہ شہر پر قبضے کی لڑائی میں امریکہ پہلے ہی ایس ڈی ایف کی مدد کر رہا ہے

امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرد جنگجو تنظیم کو شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے لڑنے کے لیے اسلحہ اور جنگی ساز و سامان فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

پینٹاگان کی ایک ترجمان نے کہا کہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کو اسلحہ دیا جائے گا تاکہ وہ دولتِ اسلامیہ کو اس کے مرکز رقہ شہر سے بےدخل کر سکے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ کو اس اقدام کے بارے میں ترکی کی تشویش کا 'شدت سے احساس' ہے۔

ترکی کرد باغیوں کو دہشت گرد سمجھتا ہے اور نہیں چاہتا کہ وہ شام میں مزید علاقے پر قابض ہو جائیں۔

ایس ڈی ایف میں کردوں کے علاوہ عرب جنگجو بھی شامل ہیں اور انھیں پہلے ہی امریکی سپیشل فورسز اور فضائی حملوں کی مدد حاصل ہے۔

یہ تنظیم اس وقت طبقہ شہر پر تسلط کی خاطر دولتِ اسلامیہ سے نبرد آزما ہے۔ دولتِ اسلامیہ کا یہ کمانڈ سینٹر رقہ سے صرف 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

پینٹاگان کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ایس ڈی ایف کو دیے جانے ساز و سامان میں اسلحہ، چھوٹے ہتھیار، بھاری مشین گنیں، تعمیراتی سامان مثلاً بلڈوزر اور بکتربند گاڑیاں شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق امریکہ بعد میں یہ سامان واپس لے لے گا۔

فی الحال یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ساز و سامان کب تک دیا جائے گا۔

پینٹاگان کی ترجمان ڈینا وائٹ نے کہا: 'ہمیں اپنے اتحادی ترکی کی تشویش کا شدت سے احساس ہے۔ ہم ترک حکومت اور عوام کو یقین دہانی کروانا چاہتے ہیں کہ امریکہ اپنے نیٹو اتحادی کے تحفظ اور اس کی سلامتی کو لاحق خطرات روکنے کے لیے پرعزم ہے۔'

ترکی شامی کردوں کو علیحدگی پسند کرد تنظیم پی کے کے کی توسیع سمجھتا ہے جسے امریکہ اور یورپی یونین دونوں نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں